کراچی کیلئے خوشخبری، 10 ارب روپے کے 10 بڑے انفرا اسٹرکچر منصوبے تیار

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس میں کراچی میں جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا گیا

فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں 10 ارب روپے سے زائد مالیت کے 10 بڑے انفرا اسٹرکچر اور سڑکوں کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا، جو بلدیاتی حکومت کے محکمہ کے تحت کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے ذریعے شہر میں ٹریفک کی روانی، رابطوں، نکاسی آب اور سڑکوں کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے جاری ہیں۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے، تعمیراتی معیار برقرار رکھا جائے اور کراچی کے بڑھتے ہوئے ٹریفک اور انفرا اسٹرکچر مسائل کے حل کے لیے طویل المدتی شہری منصوبہ بندی اپنائی جائے۔

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے ٹریفک کے دباؤ میں کمی، رابطوں کی بہتری، تباہ شدہ سڑکوں کی بحالی اور کراچی کے شہری ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے کے لیے مختلف بڑے منصوبوں کا جائزہ لیا اور کہا کہ کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ کے باعث مربوط منصوبہ بندی اور ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتار عمل درآمد ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ کراچی کے شہریوں کو محفوظ، تیز رفتار اور جدید سڑکوں کا نظام فراہم کیا جائے، جس سے شہر بھر میں ٹریفک جام میں کمی آئے اور نقل و حرکت بہتر ہو، تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطہ مضبوط بنائیں تاکہ منصوبے مقررہ مدت میں اور معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر مکمل کیے جاسکیں۔

اجلاس میں نارتھ کراچی میں پاور ہاؤس چورنگی فلائی اوور پر 2.5 ارب روپے کی لاگت سے مجوزہ فلائی اوور کی تعمیر کا جائزہ لیا گیا اور وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ تقریباً 80 فیصد براہ راست ٹریفک فلائی اوور استعمال کرے گی جبکہ مقامی ٹریفک زمینی سطح پر سروس روڈ استعمال کرے گی اور 2.377 ارب روپے کی لاگت سے فور کے چورنگی فلائی اوور منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں کلفٹن بلاکس ایک تا پانچ کو میرین ڈرائیو روڈ سے ملانے والی سڑکوں کی بحالی کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ 60 کروڑ روپے کے اس منصوبے میں سڑکوں کی مرمت، نکاسی آب کی بہتری، کلورٹس کی تعمیر، بلاول چورنگی نالے کی بحالی اور ساحلی راہداری کے رابطوں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وزیراعلیٰ کو ملیر کورٹ عظیم پورہ سے مرتضیٰ چورنگی لانڈھی تک متبادل کوریڈور کی تعمیر کے بارے میں بھی بریفنگ دی، جس کی لاگت 58 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے، کورنگی ڈھائی سے کورنگی کریک ایئربیس تک مہر النسا اسپتال روڈ کی 66 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر نو کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں فٹ بال اسٹیڈیم بلدیہ سے اردو چوک کے ذریعے شاہراہ اورنگی تک سڑک کی تعمیر و اپگریڈیشن پر بھی غور کیا گیا، 2.2 ارب روپے کے اس منصوبے کا مقصد اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن اور حب ریور روڈ کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانا ہے، اجلاس میں گلزار ہجری کو ایم نائن موٹروے سے ملانے والی مہران، پجیرو روڈ کی بحالی کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے شاہراہ فیصل کی سروس روڈ پر بحالی اور خوبصورتی کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا، جن میں نکاسی آب کی درستی، سڑکوں کی مرمت اور ٹریفک کی بہتری کے اقدامات شامل ہیں تاکہ شہر کی مصروف ترین شاہراہ پر دباؤ کم کیا جاسکے، انہوں نے چیف ایگزیکٹو واٹر بورڈ احمد صدیقی اور ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے آصف جان کو ہدایت کی کہ وہ مل کر نکاسی آب کے نظام کی تعمیر نو اور بہتری پر کام کریں تاکہ خوبصورتی کے منصوبے شروع کیے جاسکیں۔

اجلاس میں مولوی تمیز الدین خان روڈ سے مائی کولاچی تک حاجی کیمپ روڈ کی توسیع اور بحالی کی تجویز بھی پیش کی گئی، اجلاس میں جناح ایونیو سے یار محمد گوٹھ گلزار ہجری تک رابطہ سڑک اور ناردرن بائی پاس کو سپر ہائی وے سے ملانے والی حاجی ابراہیم عیسیٰ روڈ کی بہتری کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جن کا مقصد مال بردار ٹریفک اور شہری رابطوں کو بہتر بنانا ہے۔

مراد علی شاہ نے کے ڈی اے اور محکمہ بلدیات کو ہدایت کی کہ منصوبوں میں تاخیر کی وجوہات فوری دور کی جائیں اور تمام منصوبوں میں شفافیت، مؤثر نگرانی اور بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کا انجن ہے اور اس کے سڑکوں کے نظام اور شہری انفرا اسٹرکچر کی بہتری ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، ہر منصوبہ شہریوں کے سفر کا وقت کم کرنے، تحفظ بہتر بنانے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ہونا چاہیے۔

وزیر بلدیات ناصر شاہ نے کہا کہ کے ایم سی، کے ڈی اے اور دیگر ذیلی ادارے وزیراعلیٰ سندھ کے وژن کے تحت کراچی میں جامع شہری ترقیاتی حکمت عملی پر عمل درآمد کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے کراچی کے شہریوں کو درپیش دیرینہ ٹریفک اور انفرا اسٹرکچر مسائل کے حل کے لیے تیار کیے گئے ہیں، ہم ان منصوبوں کو مؤثر اور شفاف انداز میں مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ شہری اپنی روزمرہ زندگی میں واضح بہتری محسوس کرسکیں۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت صرف سڑکوں کی تعمیر پر نہیں بلکہ نکاسی آب، سیوریج، ٹریفک مینجمنٹ اور خوبصورتی کے منصوبوں پر بھی توجہ دے رہی ہے تاکہ کراچی میں انفرا اسٹرکچر کی ترقی کو طویل المدتی بنیادوں پر پائیدار بنایا جاسکے۔

Load Next Story