قومی اسمبلی کمیٹی کا قرض لینے والوں کے حقوق، بینکوں کو دیے گئے اختیارات پر اظہار تشویش

بینک کوجائیدادکی فوری فروخت کا اختیار دینے کے بجائے کسی غیرجانبدار اتھارٹی کو قیمت کے تعین کا اختیار دینا چاہیے، کمیٹی

فوٹو: فائل

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانشل انسٹیٹوشنز ترمیمی بل 2026 پر سوالات اٹھاتے ہوئے قرض لینے والوں کے حقوق اور بینکوں کو دیے گئے اختیارات پر تشویش کا اظہار کر دیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں فنانشل انسٹیٹوشنز ترمیمی بل 2026 پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس دوران کمیٹی اراکین نے مجوزہ قانون کی مختلف شقوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے قرض لینے والوں کے حقوق اور بینکوں کو دیے گئے اختیارات پر تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس میں نوید قمر نے کہا کہ قانون میں بینکاروں کے لیے تو رعایت اور تحفظ رکھا گیا ہے مگر قرض لینے والوں کے لیے کوئی سہولت موجود نہیں ہے، انہوں نے ریمارکس دیے کہ یا تو یہ رعایت دونوں فریقین کو دی جائے یا پھر اسے مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے۔

اس موقع پر جاوید حنیف نے کہا کہ سرکاری افسران کو نیک نیتی سے فیصلے کرنے پر قانونی تحفظ دیا جاتا ہے جس پر نوید قمر نے استفسار کیا کہ اگر کوئی جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرے تو پھر کیا ہوگا۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ اس وقت ملک میں عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے کہنے پر دھڑا دھڑ قوانین بنائے جا رہے ہیں جبکہ ٹیکس وصولی کے موجودہ ہتھکنڈے بھتہ خوری کے زمرے میں آتے ہیں، ملک میں ٹیکسوں کی بھرمار کے باعث کاروبار کرنا مشکل ہو چکا ہے، نوید قمر نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ کمیٹی اس اہم قانون کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔

وزارت قانون کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کو بتایا کہ جب کسی ڈیفالٹر کو فائنل نوٹس جاری ہو جائے گا تو اس کی گروی رکھی گئی جائیداد بینک کے کنٹرول میں آجائے گی اور یہ شرط پہلے سے موجود قانون کا بھی حصہ ہے۔

جاوید حنیف نے تجویز دی کہ بینک کو فوری طور پر جائیداد فروخت کرنے کا اختیار دینے کے بجائے کسی غیر جانب دار اتھارٹی کو قیمت کے تعین کا اختیار دیا جانا چاہیے، یہ اختیار ڈپٹی کمشنر کو بھی دیا جا سکتا ہے تاہم چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ اس سے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔

رکن کمیٹی جاوید حنیف نے مزید کہا کہ موجودہ شقوں کے تحت جائیداد مکمل طور پر بینک کی صوابدید پر چھوڑ دی گئی ہے اور بینک فائنل نوٹس کے فوری بعد جائیداد فروخت کر سکتا ہے۔

وزیرمملکت برائے خزانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ قرض لینے والے کے پاس عدالت سے رجوع کرنے کا اختیار موجود ہوگا اور اگرعدالت مطمئن نہ ہوئی تو جائیداد فروخت نہیں ہو سکے گی۔

سیکریٹری وزارت قانون نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ تمام شقیں پرانے قانون میں بھی موجود تھیں اور نئی قانون سازی میں کوئی نئی چیز شامل نہیں کی گئی تاہم نوید قمر نے واضح کیا کہ یہ تمام معاملات اسی صورت میں لاگو ہوں گے جب جائیداد گروی رکھی گئی ہو۔

جاوید حنیف نے کہا کہ قانون ایسا ہونا چاہیے جس سے کم سے کم مقدمہ بازی ہو اور عدالت جانے سے پہلے ایک تھرڈ پارٹی چیک یا اپیلیٹ فورم موجود ہونا چاہیے، جس پر بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ایسا کرنے سے مزید مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ ہمیشہ بینک درست نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر قرض لینے والا فراڈ کرتا ہے، اس لیے عدالت سے پہلے ایک اپیلیٹ فورم ہونا چاہیے اور قانون سازی کرتے وقت ہر قسم کی صورت حال کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

Load Next Story