ایس آئی ایف سی کی بدولت سرمایہ کاری، پالیسی ہم آہنگی اور معاشی استحکام میں نمایاں کامیابیاں
ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری سے سرمایہ کاری، پالیسی ہم آہنگی اور معاشی استحکام میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔
ایس آئی ایف سی کا قیام خصوصی سرمایہ کاری میں سہولت، سرمایہ کار اعتماد کی بحالی اور سازگار کاروباری ماحول کے فروغ کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ بعض حلقے ایس آئی ایف سی کو اُن اشاریوں کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو اس کے بنیادی مینڈیٹ میں شامل ہی نہیں۔
قانون کے مطابق ایس آئی ایف سی کا کردار سرمایہ کاری میں سہولت، پالیسی رابطہ کاری اور منصوبوں پر عملدرآمد میں تیزی لانا ہے۔ سرمایہ کاروں کی دلچسپی پیدا کرنا بورڈ آف انویسٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، جبکہ ایس آئی ایف سی عملدرآمد میں سہولت فراہم کرتی ہے۔
ایس آئی ایف سی کی ایپکس کمیٹی صرف اُن اہم معاملات پر فیصلے کے لیے منعقد کی جاتی ہے جو ایگزیکٹو سطح پر حل نہ ہو سکیں۔
وزیراعظم کی جانب سے فراہم کردہ پالیسی فریم ورک کے تحت زیرِالتوا فیصلوں پر عمل درآمد جاری ہے اور پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری کے باعث گزشتہ چند برسوں میں سرمایہ کاری کے متعدد تعطل کا شکار منصوبوں میں پیش رفت ممکن ہوئی۔ جیٹ گرین ایئر لائن، 5G اسپیکٹرم، معدنیات، زراعت، لائیو اسٹاک اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی۔
مفاہمتی یادداشتوں کو فوری سرمایہ کاری تصور کرنا درست نہیں، کیونکہ بڑے منصوبوں کے لیے فزیبلٹی، قانونی منظوریوں اور ریگولیٹری مراحل درکار ہوتے ہیں۔
ایس آئی ایف سی کے ’’سنگل ونڈو‘‘ ماڈل نے سرمایہ کاروں کو درپیش بین الادارہ جاتی پیچیدگیوں اور رکاوٹوں میں نمایاں کمی پیدا کی ہے۔
سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور بحرین سمیت 20 سے زائد ممالک کے ساتھ معدنیات، توانائی، زراعت اور آئی ٹی کے 28 بڑے منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے۔
عالمی معاشی دباؤ اور علاقائی چیلنجز کے باوجود ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان مربوط سرمایہ کاری نظام کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔