اقبال آفریدی کا بیٹا اور سیاسی پناہ کاکیس؟
msuherwardy@gmail.com
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے نے بلیو پاسپورٹ پر اٹلی جا کر وہاں سیاسی پناہ لے لی ہے۔ جس پر اٹلی کی حکومت نے سفارتی سطح پر پاکستان سے احتجاج کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اٹلی کی حکومت کا احتجاج درست ہے ۔ بلیو پاسپورٹ سرکاری پاسپورٹ ہے، اس لیے اسے ویزہ بھی ترجیحی بنیادوں پر دیا جاتا ہے۔ اگر سرکاری پاسپورٹ پر لوگ سیاسی پناہ لینے لگ جائیں گے تو پاکستان کے سرکاری پاسپورٹ کی اہمیت ہی ختم ہو جائے گی۔لہذا یہ معمولی واقعہ نہیں ہے، یہ پاکستان کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ ہے۔
اقبال آفریدی کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے، موصوف کے مطابق یہ کوئی بات نہیں، پاکستان تو رہنے کے قابل ہی نہیں ہے،لہٰذاان کے بیٹے نے باہر سیاسی پناہ لے لی ہے تو کونسا جرم کیا ہے۔ موصوف مزید فرماتے ہیں، ان کا بانی جیل میں ہے، اس لیے ان کے بیٹے کا سیاسی پناہ لینا جائز ہے۔ میں سمجھتا ہوں وہ انتہائی غلط بات کر رہے ہیں۔ پہلی بات، وہ پاکستان کے سب سے بڑے ایوان قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔موصوف پاکستان کے قومی خزانے سے بطور رکن قومی اسمبلی ماہانہ تنخواہ سمیت دیگر تمام مراعات لے رہے ہیں۔ ان کے بیٹے کو بلیو پاسپورٹ بھی ان کے رکن قومی اسمبلی ہونے کی وجہ سے دیا گیا۔ پاکستان میں اس قدر عزت ملنے کے بعد بھی وہ پاکستان کو رہنے کے قابل نہیں سمجھتے تو یہ پرلے درجے کی دوعملی ہے۔
میں سمجھتاہوں ، اب اقبال آفریدی کو رکن قومی اسمبلی رہنے کا کوئی حق نہیں۔ انھوں نے ریاست کو دھوکہ دیا ہے، ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، انھیں نا اہل قرار دیا جانا چاہیے تاکہ آیندہ کسی بھی رکن قومی اسمبلی کو ایسا کام کرنے کی جرات نہ ہو۔ اسے پاکستان کے سرکاری پاسپورٹ کی اہمیت اور اس کی قدر کا احساس ہو نا چاہیے، سرکاری پاسپورٹ پر سیاسی پناہ پاکستان کی توہین ہے، اس کو عام جرم نہیں سمجھا جا سکتا، حکومت کو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
ویسے تو میں نے پہلے بھی کئی بار لکھا ہے کہ پاکستان میں دہری شہریت کا قانون ختم ہونا چاہیے۔ اس قانون کا بہت غلط استعمال ہو رہا ہے۔ ہمارے ہمسائے ملک بھارت میں دوہری شہریت کی اجازت نہیں۔ اگر آپ کسی اور ملک کی شہریت لے لیتے ہیں تو آپ بھارت کے شہری نہیں رہتے۔ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے، جب آپ کسی اور ملک کی شہریت لے لیتے ہیں تو آپ کی پاکستان کی شہریت ختم ہو جانی چاہیے۔ آپ پاکستان ویزہ لے کر آئیں۔ آپ کو پاکستان میں غیر ملکی ہونا چاہیے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں ایسا ہے۔ یہ اچھی چیز ہے۔ یہ تو نہیں ہونا چاہیے کہ آپ باہر کسی اور ملک کے شہری بھی ہیں اور پاکستان میں حق حاکمیت بھی رکھیں۔یہ کیسے پاکستان کے وفادار ہو سکتے ہیں جو اپنے بچے اور دولت پاکستان میں رکھنے کو تیار نہیں۔ میں سمجھتا ہوں جب آپ کے بچے بھی پاکستان کے شہری نہیں ہیں تو آپ کے پاس پاکستان میں حق حکمرانی یا حق نمائندگی نہیں ہونا چاہیے۔ آپ نہ تو کسی اہم پوسٹ پر ہو سکتے ہیں نہ ہی آپ کسی اہم ایوان کے رکن ہو سکتے ہیں۔ پاکستان پر حکمرانی کا حق صرف انھیں ہونا چاہیے جو مکمل پاکستانی ہوں جن کا جینا مرنا پاکستان ہو۔ جو اپنے بچوں کے لیے پاکستان کو محفوظ نہیں سمجھتے، وہ پاکستانی عوام ، اپنے حلقے کے بچوں اور ہمارے بچوں کا مستقبل کیسے محفوظ کیسے بنا سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو بھی اپنے بچوں کے پاس بیرون ملک بھیج دیا جائے۔
اسی طرح جن کے پیسے ، کاروبار اور پراپرٹی باہر ہے، ان کو بھی پاکستان میں نہ تو الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہیے، نہ ووٹ ڈالنے کا حق ہوناچاہیے اور نہ ہی انھیں پاکستان میں حق حکمرانی ہونا چاہیے۔ و ہ اپنی دولت پاکستان میں رکھنے کے لیے تیار نہیں، انھیں پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ یہ پاکستان سے کماتے ہیں۔ پاکستان میں حکومت کرتے ہیں اور بچے باہر سیٹ کرتے ہیں۔ پراپرٹی باہر لیتے ہیں۔ بچوں کو دہری شہریت لے کر دیتے ہیں۔ بلکہ بچوں کو دہری شہریت خرید کر دیتے ہیں۔ اس لیے جس کا ایک روپیہ بھی باہر ہے، اس کو پاکستان میںکوئی بھی ذمے داری نہیں ملنی چاہیے۔ وہ عام شہری کی زندگی تو گزارے۔ لیکن پاکستان کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کا اسے کوئی اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
جب ارکان قومی اسمبلی، ارکان سینیٹ اور ارکان صوبائی اسمبلی کے بچے باہر سیٹ ہیں۔ ان میں جنھوں نے سیاسی پناہ لی ہوئی ہے یا انھوں نے کسی اور ملک کی شہر یت لے لی ہوئی ہے،ان سب کو نا ا ہل کیا جانا چاہیے۔ وہ تمام سرکاری افسر، ججز اور اعلیٰ عہدیدار جن کے بچے باہر ہیں، ان سب کو جبری ریٹائر کر دینا چاہیے۔ پاکستان میں حق حکمرانی کا پہلا اصول ہی یہ ہونا چاہیے کہ آپ اور آپ کا خاندان مکمل پاکستانی ہے، آپ کی تمام جائیدادیں اور سرمایہ پاکستان میں ہے، جینا مرنا پاکستان ہے۔
بالخصوص جو لوگ سیاسی پناہ لیتے ہیں، ان کے تاحیات پاکستان آنے پر پابندی ہونی چاہیے۔ جب آپ نے باہر جا کر یہ کہہ دیا کہ آپ کے لیے پاکستان محفوظ نہیں۔ پھر آپ دوبارہ پاکستان کیوں آتے ہیں۔ جب آپ نے باہر اپنی ایک شہر یت کے لیے پاکستان کو بدنام کر دیا تو پھر آپ دوبارہ پاکستان کیوں آتے ہیں۔ بھارت میں ایسا ہی ہے۔ اگر آپ بھارتی شہری ہیں اور آپ باہر کسی ملک میں سیاسی پناہ لے لیتے ہیں تو پھر آپ زندگی بھر دوبارہ بھارت واپس نہیں آسکتے۔ بھارت ویزہ بھی نہیں دیتا۔ میں سمجھتا ہوں، ہمیں بھی ایسا قانون بنانا چاہیے۔ یہی پاکستان کا بہترین مفاد ہے۔ یہ سلسلہ اب رکنا چاہیے۔ حکمرانوں کے بچے باہر ہیں اور وہ ہمارے بچوں کے بارے میں فیصلہ کریں، یہ کیسے چل سکتا۔ ہے۔
اقبال آفریدی کے کیس کو ٹیسٹ کیس بنائیں۔ اس پر معافی نہیں ہونی چاہیے۔ پہلے جو ہوا ، اس کو چھوڑیں، کہیں سے تو شروع کرنا ہے۔ یہاں سے شروع کریں۔ ایک د فعہ ایکشن ہوگیا تو سب کو کان ہو جائیں گے لیکن اگر آج ایکشن نہ لیا تو یہ کھیل جاری بھی رہے گا۔