مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے سعودی عرب نے نئے معاہدے کا فارمولا پیش کر دیا، برطانوی اخبار

سعودی عرب اس مجوزہ معاہدے کے لیے 1970 کی دہائی کے مشہور ہیلسنکی عمل کو رول ماڈل بنانا چاہتا ہے

مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی آگ سے نکالنے اور خطے میں پائیدار استحکام کے لیے سعودی عرب نے ایک دور رس سفارتی تجویز پیش کر دی ہے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ریاض نے خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان ایک جامع عدم جارحیت معاہدے کی تجویز دی ہے جس کا مقصد ممکنہ مستقبل کی جنگوں کے خطرات کو مستقل طور پر ٹالنا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب اس مجوزہ معاہدے کے لیے 1970 کی دہائی کے مشہور ہیلسنکی عمل کو رول ماڈل بنانا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ ہیلسنکی عمل نے سرد جنگ کے شدید ترین دور میں یورپ کے اندر کشیدگی کو کم کرنے اور عالمی طاقتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں تاریخی کردار ادا کیا تھا۔

سعودی قیادت کا خیال ہے کہ خلیجی ممالک اور تہران کے درمیان اسی طرح کا کوئی فریم ورک خطے کے مفاد میں ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیجی ریاستوں کو یہ تشویش لاحق ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ موجودہ کشیدگی کسی بڑے ٹکراؤ پر ختم ہوئی تو اس کے نتیجے میں ایک ایسا زخمی مگر مزید سخت گیر ایران ابھر سکتا ہے جو پڑوسیوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوگا۔

اس کے علاوہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں ممکنہ کمی کے خدشات نے بھی عرب ممالک کو اپنے دفاع اور سفارت کاری کے لیے نئے راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق کئی یورپی ممالک نے سعودی عرب کی اس تجویز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے دیگر خلیجی ریاستوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اس کی حمایت کریں۔

 

متعلقہ

Load Next Story