مولانا ادریس قتل کیس: تفتیشی اداروں کو ٹارگٹ کلر کی کئی ویڈیوز مل گئیں

تفتیش کا دائرہ وسیع، 53 سے پوچھ گچھ، مردان سے کئی افراد زیر حراست، ٹارگٹ کلر کوہاٹ روڈ پر بھی دیکھا گیا

مولانا شیخ ادریس ٹارگٹ کلنگ کیس میں تحقیقاتی اداروں نے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کردیا، 53 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی، مردان سے کچھ افراد کو حراست میں لیا گیا، ٹارگٹ کلر کی واردات سے قبل اور فرار سے متعلق ویڈیوز سامنے آگئیں۔

تفتیشی اداروں نے جیو فینسنگ، سیف سٹی کیمروں اور مختلف علاقوں کی نگرانی کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورک کے اہم روابط تک رسائی حاصل کرلی تاہم مرکزی ملزمان اور اہم سہولت کاروں کی گرفتاری تاحال عمل میں نہ آسکی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ کو مولانا شیخ ادریس ٹارگٹ کلنگ کیس کی ابتدائی تفتیش سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں پیش رفت، مشتبہ افراد، جیو فینسنگ اور مختلف حساس اداروں کے تعاون سے جاری کارروائیوں سے آگاہ کیا گیا۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق چارسدہ میں پیش آنے والے مولانا شیخ ادریس قتل کیس کی تحقیقات کیلئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) میں سی ٹی ڈی، پولیس اور وفاقی حساس ادارے شامل ہیں، جبکہ مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ واردات کے بعد مردان ریجن سے چند مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی گئی، جبکہ چارسدہ، نوشہرہ اور پشاور کے مختلف علاقوں کی جیو فینسنگ کا عمل بھی مسلسل جاری ہے تاکہ حملہ آوروں اور ان کے سہولت کاروں کی نقل و حرکت کا مکمل ڈیٹا حاصل کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق جائے وقوع کے اطراف موجود مشکوک افراد کی پروفائلنگ مختلف زاویوں سے کی جا رہی ہے جبکہ ایک مبینہ ٹارگٹ کلر کی ایسی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں اسے واردات کے بعد چارسدہ سے فرار ہوتے دیکھا گیا۔

تفتیشی حکام کے مطابق شبہ ہے کہ حملہ آور صبح 5 بج کر 30 منٹ کے بعد چارسدہ میں داخل ہوا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مبینہ ٹارگٹ کلر موٹرسائیکل پر پہلے چمکنی پہنچا اور وہاں سے سروس روڈ استعمال کرتے ہوئے چارسدہ داخل ہوا۔

مزید برآں واردات کے بعد اسے کوہاٹ روڈ کے اطراف نصب کیمروں کی فوٹیج میں بھی دیکھا گیا ہے جس کے بعد مختلف راستوں کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کا فرانزک جائزہ لیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق ٹیم سمیت دیگر تحقیقاتی یونٹس بھی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورک کے روابط، سہولت کاروں اور ممکنہ پناہ گاہوں کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں۔

واضح رہے کہ 5 مئی کو چارسدہ میں نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ سے مولانا شیخ ادریس شہید ہوگئے تھے، جس کے بعد صوبے بھر میں مذہبی و سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

Load Next Story