ٹرمپ کے دورۂ چین کا بڑا نتیجہ، چین 200 سے زائد امریکی طیارے خریدے گا
چین نے امریکا سے طیاروں، جیٹ انجنز اور متعلقہ پرزہ جات کی خریداری کے معاہدے کی تصدیق کردی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے بعد سامنے آیا ہے۔
چینی وزارت تجارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امریکی طیاروں کی خریداری اور امریکا کی طرف سے طیاروں کے انجنز اور دیگر پرزہ جات کی فراہمی کو یقینی بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق فریقین نے ہوا بازی کے شعبے میں تعاون جاری رکھنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ابتدائی معاہدے کے تحت کم از کم 200 طیارے امریکی کمپنی بوئنگ سے خریدے جائیں گے، جبکہ 450 طیاروں کے انجنز ایرواسپیس جی ای فراہم کرے گی۔
بوئنگ کمپنی نے بھی مختصر بیان میں تصدیق کی ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات میں پیش رفت ہوئی ہے اور 200 طیاروں کی ابتدائی خریداری پر اتفاق کیا گیا ہے۔
چینی حکام نے ابھی تک معاہدے کی مجموعی مالیت یا طیاروں کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کی، تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ 750 طیاروں تک بھی بڑھ سکتا ہے۔
یہ اعلان ٹرمپ کے دورۂ چین کے فوراً بعد سامنے آیا، جس میں امریکا کی کئی بڑی کمپنیوں کے سربراہان بھی شامل تھے۔ وفد نے چینی قیادت سے تجارتی اور سرمایہ کاری سے متعلق اہم ملاقاتیں کیں۔
چینی میڈیا کے مطابق اگر 200 طیاروں کی خریداری حتمی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یہ 2017 کے بعد چین کی جانب سے بوئنگ کو دیا جانے والا سب سے بڑا آرڈر ہوگا۔ یاد رہے کہ 2017 میں ٹرمپ کے پہلے دورۂ چین کے دوران 300 طیاروں کا تقریباً 37 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری اور عالمی ایوی ایشن مارکیٹ میں نئی سرگرمیوں کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔