ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے مزید 20 اپارٹمنٹ سب لیز ہولڈر کی انٹرا کورٹ اپیل پر اہم پیشرفت
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے مزید 20 اپارٹمنٹ سب لیز ہولڈر کی انٹرا کورٹ اپیل پر سی ڈی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
جسٹس اعظم خان اور جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے سابق ایئر چیف مجاہد انور خان، احسان مانی سمیت 20 افراد کی انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ نوٹس جاری کر رہے ہیں، بدھ کو سی ڈی اے کو بلا لیتے ہیں اور آپ بھی تیاری کر کے آئیں۔
وکیل اپیل کنندہ علی رضا نے دلائل دیے کہ عدالت اپارٹمنٹ مالکان کو تحفظ فراہم کرے، وزیر اعظم کی کمیٹی بھی بنی ہوئی ہے۔ وکیل نے استدعا کی کہ ہم چاہتے ہیں عدالت اپارٹمنٹ مالکان کے تحفظ فراہم کرنے سے متعلق کوئی آرڈر جاری کر دے کیونکہ کمیٹی اگر 26 کو کہہ دے ہم اب کچھ نہیں کر سکتے تو اگلے روز عید ہے یہ پھر خالی کروانے آجائیں گے۔
جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ تو آپ چاہتے ہیں آپ عید گزار لیں۔
وکیل علی رضا نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں اپارٹمنٹ مالکان کو تحفظ فراہم ہو انھوں نے رقم ادا کی ہوئی ہے، جو 200 لوگ یہاں رہ رہے ہیں انہوں نے رقم دی ہوئی ہے، جو کمیٹی بنی وہ معاملہ وزیراعظم دیکھ رہے ہیں۔
وکیل اپیل کنندہ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کے پیرا 30 سے اپیل کنندگان کے حقوق متاثر ہوئے، اپیل کنندگان کے اپارٹمنٹ پر قبضے کے ساتھ حقوق تسلیم شدہ ہیں، رہائشی ٹاورز بی اور سی کی تعمیر منظور شدہ لے آؤٹ پلان کے مطابق ہوئی۔
وکیل اپیل کنندہ کے مطابق 2023 میں لیز منسوخی پر سی ڈی اے نے ڈائریکٹر اسٹیٹ کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا، دونوں رہائشی ٹاورز کا انتظام اور روزمرہ امور چلانے کے لیے رہائشیوں کے ساتھ مل کر کمیٹی بنائی گئی۔ لیز منسوخی کے بعد سی ڈی اے کی نگرانی میں قائم کمیٹی کے تحت اپیل کنندگان رہائش پذیر ہیں۔ اپیل کنندگان کو قانونی طور پر حقوق حاصل ہیں جس کے تحت وہ لیز منسوخی کے بعد بھی رہائش پذیر رہے۔
استدعا کی گئی کہ اپیل کنندگان کو سب لیز کے تحت حاصل حقوق قانونی اور مؤثر قرار دیے جائیں، سی ڈی اے کو اپارٹمنٹس پر اپیل کنندگان کے پر امن قبضے میں مداخلت سے روکا جائے، سنگل بینچ کے عدالتی فیصلے کے پیراگراف 30 کو کالعدم قرار دیا جائے۔
عدالت نے ڈی سی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے بدھ تک جواب طلب کر لیا۔