جرمنی میں 16 سالہ لڑکی کا بہیمانہ قتل؛ 25 سال بعد پاکستانی نژاد باپ گرفتار

اندھے قتل کا معمہ انٹرپول کی خصوصی مہم ’’آئیڈنٹیفائی می‘‘ کے ذریعے حل ہوسکا

16 سالہ لڑکی کی لاش 25 سال قبل دریا سے ملی تھی (فائل فوٹو)

جرمنی میں تقریباً 25 سال پرانے قتل کیس میں بالآخر قاتل کو گرفتار کرلیا گیا جو کوئی اور نہیں لڑکی کا پاکستانی نژاد والد ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 16 سالہ ڈیانا ایس کی لاش 31 جولائی 2001 کو فرینکفرٹ میں دریائے مائن سے ملی تھی جسے بہیمانہ تشدد کے بعد قتل کرکے دریا میں پھینک دیا گیا تھا۔

کئی برس تک یہ کیس حل نہ ہو سکا تھا یہاں تک کہ لڑکی کی شناخت بھی نامعلوم رہی جس کے بعد یہ کیس انٹرپول کی مہم ’’ مجھے ڈھونڈیں‘‘ میں شامل کیا گیا تھا جس کا مقصد یورپ بھر میں ملنے والی نامعلوم خواتین کی شناخت اور پرانے مقدمات کی تحقیقات کو آگے بڑھانا ہے۔

اکتوبر 2024 میں کیس کو عوامی اپیل کا حصہ بنانے کے بعد مختلف افراد کی جانب سے موصول ہونے والی معلومات نے تفتیش کاروں کو نئی سراغ رسانی میں مدد دی جس کے نتیجے میں 12 مئی 2026 کو مقتولہ کے 67 سالہ والد کو گرفتار کر لیا گیا۔

ملزم پاکستان میں پیدا ہوا تھا اور برسوں پہلے جرمنی پہنچا تھا جہاں شادی کے بعد اسے شہریت بھی مل گئی۔  

انٹرپول کے سیکریٹری جنرل کے بقول اس کیس میں پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پرانے مقدمات کی مسلسل تحقیقات، عوامی تعاون اور جدید فرانزک ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ انٹرپول کی “آئیڈینٹیفائی می” مہم کے تحت اب تک 6 نامعلوم مقتولین کی شناخت ہو چکی ہے لیکن اب بھی مزید 41 کیسز حل طلب ہیں۔

 

Load Next Story