مولانا کو قتل کی دھمکیاں کیوں ؟
ashfaqkhan@express.com.pk
کراچی میں ہونے والے ایک حالیہ جلسہ عام میں جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی زبان سے نکلنے والے ان الفاظ نے کہ "اگر مجھے قتل کیا گیا تو میرا قتل ریاست کے سر ہوگا اور وہی اس کی ذمے دار ہوگی"، ایوانِ اقتدار کے در و دیوار ہلا کر رکھ دیے ہیں۔
یہ محض ایک سیاسی بیان یا جذباتی تقریر نہیں تھی بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کا برملا اظہار تھا جس کا سامنا اس ملک کے جید علماء اور مخلص قیادت کو دہائیوں سے ہے۔ اس اعلان کے فوراً بعد نماز فجر میں سجدے کی حالت میں شہید ہونے والے ڈاکٹر سومرو کے لخت جگر غازی مولانا راشد محمود سومرو اپنے مخصوص جلالی اور انتہائی جذباتی انداز میں اٹھے، مائیک ہاتھ میں لیا اور ببانگِ دہل یہ کہا کہ "اگر مولانا کا بال بھی بیکا ہوا تو دھرتی لال کر دیں گے" تو پنڈال میں موجود مولانا کے لاکھوں جانثاروں کے جذبات کا سمندر ابل پڑا۔ یہ وارننگ اس بات کی گواہی تھی کہ اس تحریک کے کارکن اپنے قائد کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے، مولانا فضل الرحمٰن صرف ایک سیاسی جماعت کے امیر نہیں بلکہ اس دورِ پرفتن میں اعتدال پسندی، جمہوریت اور اسلام کی سربلندی کا وہ مضبوط قلعہ ہیں جنھیں مائنس کرنے کا خواب دیکھنے والے دراصل اس ملک کے امن کو مائنس کرنا چاہتے ہیں۔
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کا مذہبی و سیاسی قدکاٹھ برصغیر کی اس عظیم علمی روایت کا تسلسل ہے جس کی بنیاد شیخ الہند اور مفتی محمود جیسے اکابرین نے رکھی تھی۔ وہ جہاں شریعتِ مطہرہ کے پاسبان ہیں، وہاں پارلیمانی سیاست کے سب سے منجھے ہوئے پارلیمنٹیرینز بھی ہیں جنھوں نے ہمیشہ بندوق کی نفی کی اور اپنے لاکھوں پیروکاروں کو آئینِ پاکستان کا وفادار بنایا۔ ان کی سیاسی لچک اور مفاہمت کی پالیسی دراصل اسلام کے اسی اصولِ بقائے باہمی کا حصہ ہے جو معاشرے میں انتشار کے بجائے امن کا داعی ہے۔
آج پاکستان ہی نہیں بلکہ افغانستان اور خلیجی ممالک سمیت پوری اسلامی دنیا میں ان کی علمی و سیاسی بصیرت کا لوہا مانا جاتا ہے اور عالمی طاقتیں بھی خطے کے امن کے لیے ان کے کلیدی کردار کی معترف ہیں۔ مولانا اپنی ذات میں ایک انجمن، ادارہ اور مثالی سیاسی منتظم ہیں، انھوں نے انصار الاسلام کی صورت میں ایک ایسی منظم، متحرک اور جانثار فورس بنائی جو ڈسپلن کی اعلیٰ ترین مثال ہے جو لاکھوں کے مجمع کے نظم و ضبط کو مثالی استقامت، صبر و تحمل کے ساتھ سنبھالنے میں اپنی مثال آپ ہیں۔
وہ قائد کے ایک اشارے پر پرامن رہ کر پورا ملک جام کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے اور اگر ان کی قیادت پر آنچ آئے تو بپھرا ہوا طوفان بننے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے لیکن یہاں ایک انتہائی دردناک اور فکری سوال جنم لیتا ہے جو ہر سچے مسلمان اور محبِ وطن کو خون کے آنسو رُلاتا ہے کہ آخر اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا یہ ملک علماء کے لیے مقتل گاہ کیوں بن گیا؟ جو دھرتی لا الہ الا اللہ کے کلمے پر وجود میں آئی، جہاں کا آئین قراردادِ مقاصد کے تحت اللہ رب العزت کی حاکمیت کا اقرار کرتا ہے، وہاں مفتی محمود کے مشن کو آگے بڑھانے والے اور مولانا حسن جان، مولانا سمیع الحق، مولانا عادل خان، مفتی نظام الدین شامزئی، حامد الحق حقانی اور زینت المحدثین شیخ محمد ادریس جیسے سیکڑوں جید علماء کو اسی مٹی میں بے دردی سے کیوں شہید کیے گئے؟
المیہ اور لمحہ فکریہ یہ ہے کہ آج تک ان سیکڑوں علماء کرام شہداء میں سے کسی ایک کا قاتل پکڑا گیا اور نہ نشان عبرت بنایا گیا آخر کیوں؟ یہ قاتل کون اور کیوں اتنے طاقت ور ہیں کہ ریاست کی گرفت میں نہیں آتے؟المیہ یہ ہے کہ جیو پولیٹیکل مفادات اور پراکسی وارز کے لیے استعمال تو کیا مگر سنبھالنے میں ناکام رہے اور جب علماء کرام نے بندوق کی بجائے قلم اور آئین کی بات کی، امن و اعتدال پسندی کا علم بلند کیا تو حکومت و ریاست ان کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہوگئی۔ اعتدال پسند اور جمہوری سوچ رکھنے والے علما کو ہمیشہ دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا اور متشدد گروہوں کی پشت پناہی کرنے والے قانون کی گرفت سے محفوظ رہے، جس کا خمیازہ امت کو اپنے قیمتی سرمائے کی شہادت کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
پھر ایک امر یہ بھی ہے کہ قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کو ملنے والی قتل کی حالیہ دھمکیاں محض اتفاق نہیں بلکہ دشمن کی ایک گہری اور مذموم سازش کا تسلسل بھی ہوسکتا ہے۔ یہ دھمکیاں عین اس وقت سامنے آئی ہیں جب قومی اور سوشل میڈیا پر 28ویں آئینی ترمیم کے مبہم تانے بانے بنے جا رہے ہیں۔ مولانا کا ماضی میں بھی 27ویں ترمیم پر اور آج 28ویں ترمیم کے حوالے سے بھی اصولی مؤقف ملک و قوم کے مفاد میں چٹان کی طرح مضبوط ہے۔ اصل تکلیف ان قوتوں کو ہے جو دیکھ رہی ہیں کہ فروری 2028ء میں سود کے مکمل خاتمے کی شرعی اور قانونی ڈیڈ لائن سر پر کھڑی ہے اور مولانا فضل الرحمن اس ملک کو سود کی لعنت سے پاک کر کے ایک حقیقی اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کے لیے جبل استقامت بن کر کھڑے ہیں۔
مصلحت پسندوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ قائدِ جمعیت کو بندوق یا گولی کے خوف سے پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ ان کے لاکھوں جاں نثار اور حامی اپنے قائد کے تحفظ اور اس ملک میں اسلامی شعائر و آئینِ پاکستان کی بالادستی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ حق کی یہ آواز نہ پہلے کبھی دبی ہے، نہ اب دبائی جا سکے گی۔ زینت المحدثین شیخ محمد ادریسؒ کی شہادت کے بعد ایوانِ اقتدار کی گونگی اور بہری دیواروں کے درمیان جب مولانا فضل الرحمٰن نے گرجدار مگر درد بھری آواز میں کہا کہ "میں خون کے سمندر میں کھڑا ہوں"، تو میں ڈر گیا کیونکہ یہ محض ایک فقرہ نہیں تھا بلکہ یہ اس ملک کی بقا اور اسلامی تشخص کے لیے دی جانے والی مصلایانِ حق کی لازوال قربانیوں اور مستقبل سے مایوسی کا نوحہ تھا۔
یہ ہزاروں علماء کرام کی شہادتوں کی سچی داستان ہے جس کا ایک ایک لفظ ہزاروں شہدا، علماء، اور جاں نثاروں کے خون سے لکھا گیا ہے۔ باجوڑ سے لے کر مستونگ تک اور بنوں سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک جنازے اٹھتے رہے، مائیں بین کرتی رہیں اور مولانا فضل الرحمٰن پر پے در پے خودکش حملے ہوتے رہے لیکن اس مردِ حر کے قدموں میں لغزش آئی نہ اس کے چہرے پر خوف کی کوئی لکیر ابھری۔ آج جو لوگ چھپ کر یا قتل کی دھمکیاں دے کر یہ سوچتے ہیں کہ وہ اسلام اور آئین کے اس سب سے بڑے پاسبان کو جھکا لیں گے، وہ غلطی پر ہیں کیونکہ مولانا اور ان کی جماعت نے اقتدار کے ایوانوں کے لیے نہیں بلکہ اس دھرتی کو نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا گہوارہ بنانے کے لیے خون کے سمندر تیر کر پار کیے ہیں۔ مولانا کے لاکھوں جانثار اپنے قائد کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔
کراچی کے جلسے میں مولانا کی یہ پکار اور راشد محمود سومرو کا جاہ و جلال ایک آخری انتباہ ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن پر اس سے پہلے بھی کئی خودکش حملے ہو چکے ہیں اور اگر آج ملک کا سب سے بڑا مذہبی رہنما خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے تو یہ موجودہ نظامِ حکومت پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ مولانا فضل الرحمٰن اس ملک میں وفاق، آئین کی بالادستی اور مذہبی اعتدال پسندی کی آخری اور مضبوط ترین کڑی ہیں۔ اگر خدانخواستہ ان جیسی کرشماتی اور کثیر الجہتی شخصیت کو کوئی نقصان پہنچا، تو ملک کا کروڑوں پرامن مذہبی طبقہ اس پارلیمانی نظام سے مکمل طور پر مایوس ہوجائے گا۔ پھر ان کے جذبات کو قابو میں رکھنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔
ایسی صورتحال میں، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مولانا راشد سومرو کی بات سچ ثابت ہوگی۔ حکومت کو اب ہوش کے ناخن لے کر راشد سومرو کے الفاظ اور مولانا کے جانثاروں کے جذبات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس ملک پر کوئی کڑا وقت آیا، مولانا نے جمہوریت اور آئینِ پاکستان کا بھرم رکھا، آج اگر اسی مدبر رہنما کو مسلسل قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور حکومت خاموش ہے؟ تو یہ براہِ راست پاکستان کی سلامتی پر حملہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو اب روایتی یا علامتی سکیورٹی نہیں بلکہ کسی بھی سربراہِ مملکت کے برابر فول پروف اور غیر معمولی سکیورٹی فراہم کی جائے جس کے حصار کو توڑنا کسی بھی شرپسند یا بیرونی ایجنٹ کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔ یہ وقت مصلحتوں کا نہیں، فوری اور آہنی اقدامات کا ہے۔