بڑھتی مہنگائی کے باوجود ڈرائیورز کیلئے بہتر آمدن یقینی بنانے کی کوششیں جاری

رائیڈ ہیلنگ سروسز اب بھی شہری آبادی کے وسیع طبقے کیلئے اہم سفری سہولت بنی ہوئی ہیں

پاکستان کی رائیڈ ہیلنگ انڈسٹری اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہی ہے جہاں بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں اور معاشی دباؤ کرایوں، طلب اور ڈرائیورز کی آمدن کے نظام کو متاثر کررہے ہیں۔

مارچ کے آغاز سے پاکستان کی معروف رائیڈ ہیلنگ ایپ یانگو پاکستان نے بڑے شہروں میں مرحلہ وار چھ مرتبہ کرایوں میں ردوبدل کیا ہے۔ تمام شہروں میں ایک ساتھ کرایہ بڑھانے کے بجائے مختلف علاقوں اور سروس کی اقسام کے مطابق بتدریج تبدیلیاں کی گئیں۔

کراچی اور لاہور میں مجموعی طور پر کرایوں میں اضافہ نسبتاً معتدل رہا، جو تقریباً 19 سے 20 فیصد تک پہنچا، جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں یہ اضافہ 35 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی بڑی وجہ وہاں سفر کا اوسط فاصلہ زیادہ اور فی سواری ایندھن کا استعمال زیادہ ہونا بتایا جارہا ہے۔

خاص طور پر فی کلومیٹر کرایے میں زیادہ ردوبدل کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرایوں کو آپریٹنگ اخراجات کے قریب تر لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈائنامک پرائسنگ سسٹمز طلب اور ڈرائیورز کی دستیابی میں توازن برقرار رکھنے میں زیادہ اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ یہ نظام ٹریفک، وقت اور دستیاب ڈرائیورز سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے ریئل ٹائم میں کرایوں کو ایڈجسٹ کرتا ہے۔

حال ہی میں پلیٹ فارم نے “ڈرائیورز بینیفٹ ہب” بھی متعارف کرایا ہے، جو ایک مرکزی اِن ایپ سیکشن ہے۔ اس میں ڈرائیورز کیلئے کرایوں سے ہٹ کر دیگر سہولیات اور معاونت فراہم کی گئی ہے، جن میں پارٹنر ڈسکاؤنٹس، معلوماتی مواد اور روزمرہ ڈرائیونگ سے متعلق مختلف سروسز کے لنکس شامل ہیں۔
اس اقدام کو بدلتے معاشی حالات میں ڈرائیورز کی مزید معاونت کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔

مارکیٹ کے رجحانات میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔ معاشی حالات کے باعث سفر کی مجموعی تعداد میں کچھ کمی آئی ہے، جبکہ مختلف سفری کیٹیگریز کے استعمال میں لچک پیدا ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد خاص طور پر بائیک سروسز کے استعمال میں تقریباً 10 سے 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

کراچی میں گاڑی چلانے والے ڈرائیور عبدالصمد نے صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمتیں براہِ راست ہماری آمدن کو متاثر کرتی ہیں۔ کرایوں میں بتدریج اضافہ ہمارے لیے ان اخراجات کو برداشت کرنا آسان بناتا ہے اور ہم مستقل کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر ان لوگوں کیلئے یہ مددگار ہے جنہوں نے گاڑیاں قرض پر لی ہوئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا میں ذاتی طور پر رائیڈ ہیلنگ سروسز کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ہمیشہ ہمارے مسائل سنتے ہیں اور واقعی اپنے ڈرائیورز کا خیال رکھنے والا برانڈ ہے۔ وہ ہر وقت ہماری بات سننے کیلئے دستیاب ہوتے ہیں۔

یانگو کے ڈائنامک پرائسنگ نظام نے خاص طور پر مصروف اوقات میں طلب اور دستیابی کے فرق کو کم کرکے رائیڈ کینسلیشن کی شرح کو مستحکم رکھنے میں بھی مدد دی ہے۔

رائیڈ ہیلنگ سروسز اب بھی شہری آبادی کے وسیع طبقے کیلئے اہم سفری سہولت بنی ہوئی ہیں، خصوصاً مرد و خواتین مسافروں کیلئے جہاں محفوظ اور قابلِ اعتماد سفر اہم ترجیح ہے۔

معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود اس شعبے کا سب سے بڑا چیلنج اب بھی یہی ہے کہ ڈرائیورز کی آمدن برقرار رکھی جائے جبکہ صارفین کیلئے سفر قابلِ برداشت بھی رہے۔
اسی لیے مرحلہ وار اور اعداد و شمار پر مبنی قیمتوں کی حکمتِ عملی کو اس توازن کو برقرار رکھنے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا جارہا ہے۔

متعلقہ

Load Next Story