روس اور چین کے تعلقات عالمی استحکام کی ضمانت ہیں، شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل پیوٹن کا بیان

روسی صدر دو روزہ سرکاری دورے پر چین روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کریں گے

روسی صدر پیوٹن نے چین کے دورے سے قبل کہا ہے کہ روس اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات دنیا میں استحکام پیدا کرنے والی اہم قوت بن چکے ہیں۔

روسی صدر دو روزہ سرکاری دورے پر چین روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک سال سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری براہِ راست ملاقات ہوگی۔

چین روانگی سے قبل اپنے خطاب میں پیوٹن نے کہا کہ ماسکو اور بیجنگ کسی ملک کے خلاف اتحاد نہیں بنا رہے بلکہ دونوں ممالک عالمی امن، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔

روسی صدر نے کہا کہ روس اور چین اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قوانین اور کثیرالجہتی نظام کے دفاع کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر بھی قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پیوٹن کے مطابق روس اور چین کے تعلقات غیر معمولی سطح تک پہنچ چکے ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری اور قومی اتحاد کی حمایت کرتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق روس اور چین کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2020 سے 2024 کے درمیان دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت دوگنا سے زیادہ بڑھ کر 245 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

روس بڑی مقدار میں تیل، گیس اور کوئلہ چین کو برآمد کرتا ہے جبکہ چین روس کو مشینری، گاڑیاں، الیکٹرانک سامان اور دیگر صنعتی مصنوعات فراہم کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب روس اور چین عالمی سیاست میں امریکا کے اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے کے لیے مزید قریب آتے جا رہے ہیں۔

حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے بعد پیوٹن کا دورہ عالمی سفارتی منظرنامے میں خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

Load Next Story