افریقا میں ایبولا کا خوفناک پھیلاؤ، کانگو میں 131 ہلاکتیں، ڈبلیو ایچ او نے عالمی ایمرجنسی نافذ کردی
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیدروس ایدہانوم نے وسطی افریقا میں تیزی سے پھیلنے والی ایبولا وبا پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی سطح پر سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق کانگو میں ایبولا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 131 ہو گئی ہے جبکہ 513 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
کانگو کے وزیر صحت کے مطابق ہلاکتوں کے اعداد و شمار ابتدائی تخمینوں پر مبنی ہیں اور تحقیقات جاری ہیں تاکہ تصدیق کی جا سکے کہ تمام اموات ایبولا وائرس سے ہی ہوئیں یا نہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس مرتبہ ایبولا کا نیا ورژن سامنے آیا ہے، جس کے لیے نہ کوئی مؤثر ویکسین موجود ہے اور نہ ہی مکمل علاج دستیاب ہے۔ گزشتہ پچاس برسوں میں افریقا میں ایبولا وائرس 15 ہزار سے زائد افراد کی جان لے چکا ہے۔
وبا کا مرکز کانگو کا شمال مشرقی صوبہ ایتوری بتایا جا رہا ہے جو جنوبی سوڈان اور یوگنڈا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ سونے کی کانوں اور سرحدی نقل و حرکت کی وجہ سے وائرس تیزی سے مختلف علاقوں میں پھیل رہا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم نے جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایبولا کی وبا کی رفتار اور پھیلاؤ انتہائی تشویشناک ہے۔
ادھر جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ کانگو میں ایبولا وائرس سے متاثر ہونے والے ایک امریکی شہری کو علاج کے لیے جرمنی منتقل کیا جائے گا۔ امریکی حکام کے مطابق متاثرہ شخص کانگو میں اپنے کام کے دوران وائرس کا شکار ہوا۔