صدر ٹرمپ کا دورہ چین
امریکا اور چین دنیا کی دو بڑی طاقتیں ہیں۔ اقوام متحدہ میں دونوں کو ویٹو کا اختیار بھی حاصل ہے جو عالمی سیاست کے رخ کا تعین کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، امریکی اور چینی صدور کا آپس میں ملاقات کرنا اور باہم مشاورت سے فیصلے کرنا عالمی سیاست، معیشت، سفارت اور علاقائی و عالمی امن کے حوالے سے گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
دنیا بھر کے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں امریکی و چینی سربراہوں کی ملاقات اور اس کے اثرات و ممکنہ نتائج کے حوالے سے مبصرین و تجزیہ نگار اپنی اپنی آرا کا اظہار کرتے ہیں، مثبت اور منفی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کا سرکاری دورہ کیا تو عالمی ذرائع ابلاغ میں اس کی بھرپور نمایاں طور پر شہ سرخیوں میں خبریں شائع ہوئیں۔ اداریے اور کالم لکھے گئے اور صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات اور بات چیت کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا کہ جب مشرق وسطیٰ میں ایران امریکا اسرائیل جنگ کے حوالے سے کشیدگی عروج پر ہے۔ عالمی منڈیوں تک تیل لے جانے والی اہم ترین گزرگاہ آبنائے ہرمز پر ایران نے اپنا کنٹرول قائم رکھا ہوا ہے تو دوسری طرف امریکا نے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ چین پس پردہ ایران کی خاموش حمایت کر رہا ہے اور پرامن تصفیہ کا خواہاں ہے لیکن تادم تحریر پاکستان کی شبانہ روز سفارتی کوششوں اور مخلصانہ ثالثی کاوشوں کے باوجود جنگ بندی کے بعد امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دور اور ممکنہ معاہدے کی کوئی راہ ہموار نہیں ہو سکی۔ روس، یوکرین تنازع کے حوالے سے بھی چین کی واضح ہمدردیاں روس کے ساتھ جب کہ امریکا یوکرین کو مدد فراہم کر رہا ہے۔
اسی طرح تائیوان چین تنازع میں بھی امریکا تائیوان کے موقف کا حامی ہے جب کہ چین تائیوان کو اپنا ملکیتی حصہ قرار دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ کو دورہ چین کے دوران یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ تائیوان پر چین اپنے اصولی موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ امریکا ایرانیوں کے عزم و حوصلے کو شکست دینے میں ناکام رہا۔ دنیا کی واحد سپرپاور اور سب سے بڑی عسکری طاقت ہونے کے باوجود امریکا ایران کو واضح شکست دینے میں کامیاب نہ ہو سکا جس کے باعث عالمی سطح پر امریکا کا دنیا کی ’’واحد سپرپاور‘‘ ہونے کا دعویٰ نقش برآب ثابت ہوا۔
عالمی ذرائع ابلاغ میں کھل کر یہ تبصرے کیے گئے کہ ایران کے خلاف امریکا جنگ ہار گیا اور ڈونلڈ ٹرمپ ’’فیس سیونگ‘‘ کے لیے پاکستان کی ثالثی کے ذریعے ایران کے ساتھ امن معاہدے کے خواہاں ہیں۔ امریکی جریدے ٹائم نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ چین میں صدر ٹرمپ کو یہ واضح پیغام ملا کہ عالمی طاقت کا مرکز اب مشرق وسطیٰ منتقل ہو چکا ہے۔ چین کی معاشی و اسٹرٹیجک مضبوطی نے عالمی سطح پر طاقت کا توازن بدل دیا ہے۔ جریدہ لکھتا ہے کہ ٹرمپ کا دورہ علامتی کامیابی مگر عملی اثر محدود ہے۔
بیجنگ مذاکرات میں امریکا کو سخت سفارتی چیلنجز کا سامنا رہا، چینی صدر شی کا تائیوان پر دو ٹوک موقف امریکا چین کشیدگی کی اصل وجہ ہے جو ہنوز برقرار ہے۔ ٹائم کی خصوصی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ دورہ چین نے ایک بار پھر یہ بحث تیز کر دی ہے کہ عالمی طاقت کا مرکز تیزی سے مشرق وسطیٰ کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
عالمی ذرائع میں ہونے والے تبصرے اور تجزیے یہ بتا رہے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بڑے وفود کے ہمراہ جن میں مختلف کمپنیوں کے سی ای اوز بھی شامل تھے، جن توقعات اور امیدوں کے ساتھ چین گئے تھے وہ کماحقہ پوری نہ ہو سکیں۔ ٹرمپ چین سے بڑے نتائج حاصل کیے بغیر واپس لوٹے ہیں۔ تاہم کہا جا رہا ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان تعلقات میں وقتی طور پر استحکام نظر آ رہا ہے جیساکہ چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔
چین بڑی خاموشی و اعتماد کے ساتھ اپنی عسکری، تجارتی، ٹیکنالوجی کی قوت میں اضافہ کر رہا ہے جو امریکا کے لیے مستقبل میں بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ امریکا جو بھارت کی پشت پناہی کرکے اسے چین کے مقابلے لانے کا خواہاں تھا تو معرکہ حق کے بعد اس کا یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ ایران جنگ کے بعد چین کی اقتصادی، معاشی، ٹیکنالوجی اور عسکری قوت کو چیلنج کرنا اب امریکا کے لیے ممکن نہیں رہا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے عالمی سطح پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے حوالے سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل ازوقت ہوگا۔