ثنا یوسف کا قاتل کسی نرمی کا مستحق نہیں، عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

ملزم کو سزائے موت کیساتھ مجموعی طور پر 21 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں بھی سنائی گئیں

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے ثنا یوسف قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

ستائیس صفحات پر مشتمل فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ نے دو چشم دید گواہوں کی شکل میں ملزم کے خلاف بھر پور شواہد پیش کیے، ملزم کے فنگر پرنٹ بھی مقتولہ کے گھر سے ملے۔

فیصلے کے مطابق ملزم سے استعمال ہونے والی گاڑی اور پستول بھی ریکور ہوئی، ملزم نے ملاقات نہ کرنے پر 17 سالہ معصوم لڑکی کا قتل کیا، ملاقات نہ کرنے کے علاؤہ قتل کا کوئی اور محرک نہیں تھا۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزم کسی بھی نرمی کا مستحق نہیں لہذا عدالت ملزم عمر حیات کو دفعہ 302 کے تحت موت کی سزا سناتی ہے، ملزم پر دو لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے۔

فیصلے کے مطابق ملزم کو پی پی سی کی دفعہ 392 کے تحت دس سال قید اور 2 لاکھ جرمانے، پی پی سی کی دفعہ 499 کے تحت 10 سال قید اور دو لاکھ جرمانے اور پی پی سی کی دفعہ 411 کے تحت ایک سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔

Load Next Story