ایمان مزاری کیس: یورپی یونین نمائندے کو دوسرے روز بھی عدالت میں داخلے سے روک دیا گیا

سزا معطلی کی درخواستیں جلد  سماعت کے لئے مقرر کرنے کی متفرق درخواستوں پر اسٹیٹ کو نوٹس جاری

فوٹو: فائل

اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں جلد  سماعت کے لئے مقرر کرنے کی متفرق درخواستوں پر اسٹیٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ نوٹس جاری کر رہے ہیں دوسرے فریق کو سن لیتے ہیں۔ عدالتی کارروائی کا جائزہ لینے کے لئے آنے والے یورپی یونین کے نمائندے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے متفرق درخواستوں پر سماعت کی، عدالت نے اسٹیٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ نوٹس جاری کر رہے ہیں دوسر فریق کو سن لیتے ہیں۔

 ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ہادی علی چٹھہ کے وکیل فیصل صدیقی نے استدعا کی کہ کیس پیر کو سماعت کیلئے رکھ لیں، جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ پیر کو عید سے پہلے آخری ورکنگ ڈے ہے اُس دن نہیں رکھ سکتے۔

فیصل صدیقی نے کہا کہ پیر کو رکھ دیں اور دوسرا فریق آ کر التواء مانگتا ہے تو ہم اعتراض نہیں کرینگے، جسٹس اعظم خان نے کہا کہ عید کے بعد پہلے ورکنگ ڈے پر کیس رکھ رہے ہیں، اب آپ کی قسمت ہی ایسی ہے میں کیا کروں؟۔

ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ دونوں وکلاء ہماری بار کے معزز ممبران ہیں، کیس پیر کیلئے رکھ لیں، جسٹس اعظم خان نے کہا کہ میں دیکھ لیتا ہوں کہ پیر کو ہمارے پاس کیا کیسز ہیں، جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ آپ عید کے بعد پہلا ورکنگ ڈے ہی رکھ دیں، عدالت نے اسٹیٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

دوسری طرف سماعت سے قبل یورپی یونین کا نمائندہ گزشتہ روز اور آج بھی کیس کی سماعت میں شرکت کیلئے ہائیکورٹ آیا، ذرائع نے بتایا کہ یورپی یونین کے نمائندہ کو دونوں دن اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر داخلے کی اجازت نہ مل سکی۔ یورپی یونین کے نمائندہ کو گزشتہ روز اور آج بھی ہائیکورٹ کے گیٹ سے واپس بھیج دیا گیا۔

Load Next Story