کیڑے والے بسکٹ، جاپان کا عجیب اور مشہور اسنیک
اگر آپ کے بسکٹ میں غلطی سے ایک مکھی بھی نکل آئے تو شاید آپ فوراً اسے پھینک دیں، لیکن جاپان میں ایک ایسا انوکھا بسکٹ بھی موجود ہے جسے جان بوجھ کر درجنوں نہیں بلکہ بے شمار کیڑوں کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے، اور حیران کن طور پر لوگ اسے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔
جاپان کے منفرد اور عجیب و غریب کھانوں میں شامل ’’جیباچی سنبئی‘‘ نامی یہ بسکٹ اپنی غیر معمولی ترکیب کی وجہ سے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر چکا ہے۔ اس بسکٹ کو تیار کرنے کے لیے خشک بھڑوں یعنی واسپس کو آٹے میں ملا کر بیک کیا جاتا ہے، جس کے بعد یہ ایک روایتی جاپانی اسنیک کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بسکٹ محض کسی تجرباتی کھانے کا حصہ نہیں بلکہ جاپان کے بعض علاقوں میں اسے مقامی ثقافت اور روایتی خوراک کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ان بسکٹس کی تیاری خاص طور پر جاپان کے شہر اومچی میں کی جاتی ہے، جہاں ’’اومچی جیباچی آئیکوکائی‘‘ نامی ایک کلب، جو بھڑوں سے دلچسپی رکھنے والے افراد پر مشتمل ہے، نے ایک مقامی بیکری کے ساتھ مل کر اسے متعارف کروایا۔
یہ منفرد بسکٹ پہلی بار 2010 کی دہائی کے وسط میں خبروں کی زینت بنا جب سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں۔ بسکٹ کی ظاہری شکل میں واضح طور پر چھوٹے بھڑ نظر آتے ہیں، جو اسے مزید حیران کن بنا دیتے ہیں۔
جیباچی سنبئی اب جاپان کے مقامی بازاروں اور چند خصوصی گورمیٹ اسٹورز میں دستیاب ہے، جبکہ کئی غیر ملکی سیاح بھی صرف اس عجیب اسنیک کو آزمانے کے لیے اومچی کا رخ کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جاپان میں کیڑوں پر مشتمل خوراک کا رجحان نیا نہیں، کیونکہ بعض علاقوں میں پروٹین کے متبادل ذرائع کے طور پر حشرات کو روایتی غذا کا حصہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم ’’جیباچی سنبئی‘‘ اپنی منفرد شکل اور غیر معمولی اجزاء کی وجہ سے اب بھی دنیا کے عجیب ترین بسکٹس میں شمار کیا جاتا ہے۔