ریڈ لائن
امریکا ایران کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورت حال ہر نئے دن کے آغاز کے ساتھ ایک نئی کروٹ بدلتی نظر آ رہی ہے، اگرچہ پاکستان کی ثالثی کے باعث امریکا نے ایران کے خلاف جنگ بندی کا اعلان کرکے ایک صائب فیصلہ کیا بعدازاں اسلام آباد میں امریکا ایران کے درمیان اعلیٰ سطح مذاکرات بھی ہوئے لیکن کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہ ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان کوئی قابل قبول معاہدہ نہ طے پا سکا البتہ فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر ضرور اتفاق کیا گیا۔
پاکستان نے اخلاص نیت کے ساتھ امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے لیے کوششیں جاری رکھیں جو تاحال جاری ہیں۔ اسی حوالے سے پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ دنوں ایران کا خصوصی دورہ کیا اور اپنے ایرانی ہم منصب کے علاوہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقاتیں کیں جس میں خطے کی تازہ ترین صورت حال امریکا ایران مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اب محسن نقوی ایک بار پھر تہران گئے ہیں۔ جنگ بندی کے بعد سے ایران اور امریکا دونوں پاکستان کے ذریعے ایک دوسرے کو اپنی اپنی تجاویز اور شرائط پیش کرتے رہے ہیں ۔
ایران کی پیش کردہ شرائط کو صدر ٹرمپ مسترد کر دیتے ہیں تو امریکا کی جانب سے پیش کردہ تجاویز ایران کے لیے قابل قبول نہیں ہوتیں۔ یوں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے ایک ڈیڈ لاک کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ ایران نے اپنی آخری تجاویز دیتے ہوئے پانچ شرائط پیش کی ہیں جن میں اول تمام محاذوں پر خاص طور پر لبنان میں جنگ کا خاتمہ، دوم ایران پر لگائی گئی تمام پابندیوں کا خاتمہ، سوم ایران کے منجمد تمام اثاثوں کی بحالی و واپسی، چہارم ایران کو جنگی ہرجانے کی ادائیگی اور پنجم آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنا شامل ہے۔
ایران کی امن معاہدے کے لیے پیش کردہ مذکورہ پانچ تجاویز کے جواب میں امریکا نے اپنی پانچ شرائط رکھی ہیں جن میں اول امریکا کی جانب سے ایران کو حالیہ جنگ کا کوئی ہرجانہ ادا نہیں کیا جائے گا۔ دوم 400 کلو گرام یورینیم امریکا کے حوالے کیا جائے گا، سوم صرف ایک ایرانی جوہری تنصیب برقرار رہے گی، چہارم ایران کے منجمد اثاثوں کا صرف 25 فی صد دیا جانا ممکن ہے اور پنجم مذاکرات لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے سے مشروط ہوں گے۔
امریکا کی ان کڑی شرائط سے صورت حال پھر کشیدہ ہو گئی۔ ایران اپنی شرائط پر اپنی خواہش کے مطابق اور اپنی تجاویز کی قبولیت کی بنیاد پر امریکا سے مذاکرات اور معاہدے کا خواہش مند ہے جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی جانب سے پیش کردہ کڑی شرائط کو من و عن تسلیم کرنے پر ایران سے امن معاہدہ چاہتے ہیں۔ ایران کہتا ہے کہ ہم کسی صورت اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے تو ادھر امریکی صدر ٹرمپ دھاڑتے رہتے ہیں کہ ایران نے ہماری شرائط نہ مانیں تو دوبارہ حملہ کر دیں گے۔
تیزی سے بدلتی ہوئی نازک اور سنگین صورت حال کے پیش نظر وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور خلیجی ممالک سعودی عرب، قطر اور امارات نے برق رفتار سفارتی رابطوں کے ذریعے امریکا کی ممکنہ جارحیت کو روکنے کے لیے اپنے تمام ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو حملے سے روکا اور ٹرمپ کو یقین دہانی کرائی کہ چوں کہ مذاکراتی عمل کی بحالی کا سلسلہ جاری ہے ایسے میں ایران پر حملہ کرنا دانش مندانہ قدم نہیں ہوگا لہٰذا صدر ٹرمپ نے سعودی عرب، امارات اور قطر کے سربراہان کی درخواست پر منگل کے دن کیا جانے والا ایران پر حملہ روک دیا۔
ساتھ ہی یہ دھمکی بھی لگا دی کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی قابل قبول معاہدہ نہ ہوا تو امریکی فوج کسی بھی لمحے بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکا نے اسلحے سے لدے ہوئے درجنوں جہاز اسرائیل پہنچا دیے ہیں جو صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف خطرناک عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں ہے، ایران کسی صورت اپنے عوام اور ملک کے جائز حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایران اور امریکا کے درمیان یورینیم کی افزودگی ریڈ لائن ہے۔ امریکا ہر صورت ایران میں موجود یورینیم کو اپنے قبضے میں لینا چاہتا ہے جب کہ ایران کسی بھی حالت میں یورینیم کی افزودگی سے کلی طور پر دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ البتہ یہ کہا جا رہا ہے کہ ایرانی قیادت 15 سے 20 سال کے لیے یورینیم افزودگی پر راضی ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کی جانے والی کوششوں کے ثمرآور ہونے کی امید یقینا قائم ہے۔ ترکیہ، سعودی عرب، قطر، امارات اور دیگر ممالک بھی اپنے طور پر امن معاہدے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، تاہم سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ریڈ لائن یعنی یورینیم کی افزودگی پر سمجھوتا فریقین اور ثالثوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔