لیل و نہار کا جنگ ِآزادی نمبر(دوسرا اورآخری حصہ)
اس رسالے میں تار برقی کے عنوان سے یہ چند سطر کا پیراگراف بھی شامل ہے ’’ابھی ابھی دہلی سے اطلاع آئی ہے کہ ہمیں دفتر چھوڑنا پڑے۔ میرٹھ کے سپاہی تمام بنگلے جلا رہے ہیں، وہ آج صبح وارد ہوئے ہیں، پیغام رسائی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے، آج پیغام نہ بھیجا جائے۔ ہمارا خیال ہے کہ مسٹری ٹوڈی وفات پاچکے ہیں، وہ صبح نکلے ابھی تک واپس نہیں آئے۔ ہم نے سنا ہے نو یورپی باشندے اب تک مارے گئے ہیں۔ ‘‘
’’الوداع ظہیر دہلوی مرحوم شاگرد ذوق دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب‘‘ کے عنوان سے اس آرٹیکل میں بہادر شاہ کی محدود سوچ کا اندازہ ہوتا ہے۔ دلی پر قبضہ کے بعد فوجیوں نے اہل شہر کے ساتھ مل کر بہادر شاہ ظفر کو تخت پر بٹھایا۔ بادشاہ نے اپنے قریبی رشتے دار مرزا ظہیر الدین مغل کو سپہ سالار افواج مقرر کیا۔ جواں بخت وزیر اعظم مقرر ہوئے۔ پھر بادشاہ کا جلوس نکالا گیا۔
جنرل بخت خان اواخر جون تا ابتدائی جولائی میں اپنی روہیلہ فوج کے ہمراہ دہلی میں وارد ہوا تو جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ بادشاہ نے جنرل بخت خان کو انتظامات جنگ سپرد کردیے۔ مرزا مغل برائے نام سپہ سالار رہے۔ جنرل بخت خان نے ایک مجلس انتظامیہ بنائی جس کا کام فوجی و شہری مسائل کی نگرانی تھا۔ اس کے 12اراکین تھے، 6فوجی اور 6 شہری۔ جنرل بخت خان کی وجہ سے شہر کی فضاء بھی بہتر ہوگئی اور لوٹ مار کا بازار بھی سرد پڑگیا۔ فوجیوں کی اچانک بغاوت اور پیش قدمی کے باعث ہندوستانیوں کو جو موقع ملا تھا افسوس ہے کہ فرماں روا اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
وہ مقامی جھگڑوں میں پڑگئے اور پہل قدمی کرنے اور دیگر مقامات پر قبضہ کرنے کے بجائے وہ دشمن کا انتظار کرنے لگے اور انگریزوں کو انھوں نے اس کی پوری آزادی دی کہ جب انتظامات مکمل ہوجائیں تو آکر شہر کا محاصرہ کرلیں۔ یہ دفاعی جنگ نہ صرف دہلی بلکہ پورے ملک کے لیے نہایت مہلک ثابت ہوئی۔ دوسری ہلاکت آفرین بات یہ تھی کہ شاہی دربار کے وزراء اور امراء ایک دوسرے سے لڑنے لگے۔ جب 19ستمبر کو شہر کے بڑے حصے پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا تو بہادر شاہ ظفر لال قلعہ سے نکل کر قطب شاہ میں ہمایوں کے مقبرہ میں مقیم ہوگئے۔
جب جنرل بخت خان نے بادشاہ سے کہا تھا کہ’’ بادشاہ ان کے ہمراہ جائیں اور انگریز سے مقابلہ جاری رہے۔‘‘ بادشاہ نے اس شرط پر انگریز کی اطاعت قبول کرلی کہ جواں بخت اور زینت محل کی جان بخشی کی جائے گی۔ انگریز افسر ہوڈسن نے اپنے ایک سوار کی بندوق سے تینوں شہزادوں کو گولی ماردی۔ خواجہ حسن نظامی نے لکھا ہے کہ ہوڈسن نے چلو سے شہزادوں کا خون پیا۔ ان شہزادوں کا سر بادشاہ کو پیش کیا گیا۔ ا س کے بعد انگریزوں نے جو قتل عام کیا اس پر تہذیب ہمیشہ شرمائے گی اور انسانیت خون کے آنسو بہائے گی۔
مولانا غلام رسول مہر کا ایک آرٹیکل بہادر شاہ ظفر کے مغل دربار کے بارے میں انتہائی معلوماتی ہے۔ بہادر شاہ ثانی کا ولی عہد اس کا بڑا بیٹا شہزادہ بخت تھا جو 11 جنوری 1849کو فوت ہوا۔ اب شہزادہ فخر الدین وارث رہ گئے۔ وہ لائق و فائق ہونے کے علاوہ شریعت کا پابند تھا۔ اس زمانہ میں زینت محل کو بہادر شاہ پر پورا اثر و رسوخ حائل تھا۔ بیگم نے اپنے بیٹے جواں بخت کے لیے کوشش شروع کردی۔ شہزادہ فخر الدین فتح الملک کی ولی عہدی کے خلاف دوسری دلیلوں کے علاوہ ایک دلیل یہ بھی تھی کہ اس کی والدہ اونچے خاندان سے نہ تھی۔ انگریزوں کی خواہش تھی کہ اس جھگڑے سے فائدہ اٹھا کر اپنے مقاصد پورے کرالیں۔ شاہی خاندان سے قلعہ خالی کرالیں۔
لیل و نہار میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل کا عنوان ’’پنجاب اور جنگ آزادی‘‘ ہے، اگرچہ آزادی کے اصل مرکز دوسرے علاقے تھے لیکن پنجاب اور سرحد بھی اس قومی جدوجہد میں شریک رہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق انبالہ انگریزوں کی بہت بڑی چھاؤنی تھی۔ یہاں اپریل میں ہندوستانی سپاہیوں میں بے چینی کے آثار پیدا ہوئے ۔ 19 اپریل کو انگریزوں کے بنگلوں کو آگ لگادی گئی۔
29 مئی کو ہندوستانی فوج کی جو کمپنیاں یہاں موجود تھیں، ان سے ہتھیار لے لیے گئے۔ اگرچہ انبالہ میں کوئی خاص ہنگامہ نہیں ہوا تھا لیکن 29افراد کو موت کی سزا دی گئی اور 135 قتل ہوئے۔ اسی طرح پنجاب میں فیروزپور اسلحے کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ ایک رجمنٹ نے میگزین پر حملہ کیا لیکن میگزین کو بحال کرالیا گیا، البتہ چھاؤنی میں کئی عمارتیں نذرِ آتش ہوگئیں۔ انگریزوں نے 13 افراد کو پھانسی دی اور 15 کو گولی ماردی گئی۔ پنجاب کے ایک اور شہر شملہ میں ایک شخص رام پرشاد پر الزام لگایا گیا کہ اس نے خطوط کے ذریعے لوگوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے اپنی رپورٹ میں اس الزام کو غلط قرار دیا مگر رام پرشاد کو انبالہ لے جاکر پھانسی دی گئی۔ لدھیانہ، جالندھر، ہوشیار پور اور لاہورمیں مقامی فوج کے سپاہیوں سے ہتھیار چھین لیے گئے۔
اسی طرح انبالہ میں مقامی شخص کی مخبری کی بناء پر تصادم ہوا جس میں فوج کی 26 نمبر کمپنی کے بہت سے افراد جا رہے تھے، بہت سے فوجی دریائے راوی کی لہروں کی نذر ہوگئے تھے۔ جب 150 قیدی موت سے ہم آغوش ہوگئے تو گولی چلانے والے سکھ فوج کے دستے میں سے ایک کو غش آگیا۔ چنانچہ تھوڑی دیر قتل کا سلسلہ رک گیا، جن باغی فوجیوں نے برج سے نکلنے سے انکار کیا ان میں سے کئی گرمی اور حبس کی بناء پر جاں بحق ہوگئے۔
راولپنڈی اور جہلم میں فوجی عدالتوں نے 108 افراد کو اور دیوانی عدالتوں نے 237 افراد کو پھانسیاں دینے کے فیصلے کیے۔ مری میں ایک شخص سید کرم علی کو پھانسی دیدی گئی۔ پھر دو بھائیوں ڈاکٹر رسول بخش اور ڈاکٹر امیر کو گرفتار کیا گیا۔ 7 اکتوبر 1857ء کو ان لوگوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ملتان کے علاقے میں کھرل قوم کے ایک سردار احمد خان کھرل نے انگریز حکومت کے خلاف آواز اٹھائی مگر انگریز حکومت نے پھانسی دینے کا فیصلہ کیا۔ کھرل کے بارے میں اعلان کیا گیا کہ سردار احمد کھرل کو پھانسی دیدی جائے گی۔
1857میں صحافت کا کردار کے موضوع پر شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق اینگلو انڈین اخبارات کا مطالبہ تھا کہ قانون زباں بندی صرف دیسی اخبارات پر لاگو ہو۔ لارڈ گیجنگ نے اس کے جواب میں کہا کہ انگریزی اخبارات جو باتیں لکھتے ہیں وہ یورپی قارئین کے لیے مناسب ہیں لیکن دقت یہ ہے کہ دیسی اخبارات انگریزی اخبارات سے مضامین اور خبریں ترجمہ کرتے ہیں اور ہندوستانی قارئین کے لیے یہ خطرناک ہیں۔
لاہور کرانیکل نے 11 جولائی 1857 کو لکھا کہ ہمارے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ بہت سے دیسی اخبارات بغاوت میں ملوث ہیں۔ ہندوستان کی صحافت پر تحقیق کرنے والے صحافت کے پہلے استاد ڈاکٹر عبدالسلام خورشید نے 1857 میں صحافت کے کردار کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ اسی آرٹیکل میں دہلی اردو اخبار کے ایڈیٹر مولانا باقر کو پھانسی دیے جانے والے واقعہ کا ذکر ہے۔ وہ ہندوستان کے پہلے صحافی تھے جنھیں انگریز حکومت نے موت کی سزا دی تھی۔
لیل و نہار کا یہ شمارہ 1857 کی جنگ آزادی کی مکمل تاریخ ہے۔ اس شمارے کو پڑھ کر نوجوانوں کو یہ اندازہ ہوگا کہ برطانوی سامراج نے طاقت سے ہندوستان پر قبضہ کیا۔ امریکی سامراج آج کے دور میں نئے بیانیہ کے ساتھ ترقی پذیر مالک کے وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ سرسید کا مضمون کہ ’’کیا ہوا ہندوستان کی سرکشی کا‘‘ اس لیے اہم ہے کہ سرسید نے انگریزی حکومت کی کاسہ لیسی کے لیے کیسے دلائل مرتب کیے۔ اس آرٹیکل میں لیل و نہار کے اس شمارے کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔ حقیقی معلومات پوری کتاب پڑھنے سے حاصل ہونگی۔ ڈاکٹر جعفر ایک دفعہ پھر مبارکباد کے مستحق ہیں۔