حکومت نے بین الاقوامی این جی اوز کی رجسٹریشن کے قوانین سخت کردیے
حکومت نے بین الاقوامی غیر سرکاری و غیر منافع بخش تنظیموں (آئی این جی اوز) کی ٹیکس رجسٹریشن کے لیے مقامی رہائش کا ثبوت، وزارتِ داخلہ سے جاری کردہ این او سی، اور حکومت پاکستان کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت(ایم او یو) سمیت دیگر دستاویزات کی فراہمی کو لازمی قرار دے دیا۔
’’ایکسپریس نیوز‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس رولز 2002ء میں اہم ترامیم کردی ہیں۔ ایف بی آر کے نوٹی فکیشن کے مطابق انکم ٹیکس رولز 2002ء میں تبدیلیاں کرتے ہوئے رجسٹریشن کے لیے مزید دستاویزات اور تفصیلات فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ نوٹیفکیشن 20 مئی 2026 کو جاری کیا گیا جس کا مقصد ملک میں کام کرنے والی بین الاقوامی غیر منافع بخش تنظیموں (آئیی این جی اوز) کے مالی اور انتظامی معاملات کو مزید شفاف بنانا بتایا جا رہا ہے۔
نوٹیفکیشن کے تحت اب رجسٹریشن کے وقت کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ، نائیکوپ اور پی او سی یا غیر ملکی پاسپورٹ نمبر فراہم کرنا ضروری ہوگا۔ اس کے علاوہ آئی این جی اوزکو اپنے کاروباری پتے، اکاوٴنٹنگ مدت، فون نمبر، مرکزی کاروباری سرگرمی، اور پاکستان میں مجاز نمائندے یا پرنسپل آفیسر کی مکمل معلومات بھی دینا ہوں گی۔
ایف بی آر نے مجاز نمائندے کی تقرری کے لیے اتھارٹی لیٹر، بیرونِ ملک رجسٹریشن یا انکارپوریشن دستاویزات، متعلقہ سفارت خانے سے تصدیقی خط، مقامی رہائش کا ثبوت، وزارتِ داخلہ سے جاری کردہ این او سی، اور حکومتِ پاکستان کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) جمع کرانا بھی لازمی قرار دیا ہے اس کے علاوہ غیر ملکی غیر منافع بخش تنظیموں کو اپنے ڈائریکٹرز، ٹرسٹیز، بڑے شیئر ہولڈرز یا شراکت داروں کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی جن میں نام، قومیت، پاسپورٹ نمبر اور حصص کی شرح شامل ہوگی۔
ایف بی آر حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مالیاتی نظام کو دستاویزی شکل دینا اور بین الاقوامی تنظیموں کی سرگرمیوں کی موٴثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔