سعد نے کہا تھا کہ اگر اسرائیلی سزا بھی دیتے ہیں تو مجھے بہت فخر ہو گا، فیصل ایدھی
سماجی کارکن فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی قید سے آزاد ہونے والے سعد ایدھی کا آخری رابطہ اپنی والدہ سے ہوا تھا۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل ایدھی نے بتایا کہ اسرائیل کی قید میں جانے سے پہلے سعد ایدھی کا آخری رابطہ اپنی والدہ سے ہوا تھا، سعد نے اپنی والدہ کو کہا تھا کہ یہ میری آخری کال ہے ،اس کال کے بعد میں دوبارہ رابطہ نہیں کر سکوں گا۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے بیٹے سعد ایدھی کو کہا تھا کہ اسرائیلی گرفتار کرکے جھوٹے کیسز بنائیں گے، جس کے جواب میں سعد ایدھی کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیلی مجھے سزا بھی دیتے ہیں تو مجھے بہت فخر ہو گا۔
فیصل ایدھی نے کہا کہ اسرائیل کی قید سے آزاد ہونے والے فلوٹیلا میں تمام لوگ رضا کار تھے اور خواراک اور دوائیوں سمیت دیگر امدادی سامان چندہ کر کے لے کر گئے تھے۔ سعد ایدھی فلوٹیلا کے دیگر رضا کاروں کے ساتھ کام کر ر ہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی بربریت سے متعلق بات کرتے ہوئے فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے کافی عرصے سے فاشسٹ رویہ اختیار کیا ہوا ہے ،غزہ میں بغیر بے ہوش کیے ڈاکٹرز آپریشنز کرنے پر مجبور ہیں۔
سماجی کارکن اور ایدھی فاؤنڈیشن کے رکن سعد ایدھی کو اسرائیلی حراست سے رہا کر دیا گیا تھا اور وہ دیگر رضاکاروں کے ہمراہ بحفاظت ترکیہ کے شہر استنبول پہنچ گئے تھے۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی تصدیق کی تھی کہ غزہ کے لیے امدادی مشن "گلوبل صمد فلوٹیلا" میں شامل پاکستانی رضاکار سعد ایدھی کو اسرائیلی حراست سے رہا کرا لیا گیا ہے۔