دن بھر کی شدید گرمی کے بعد ابر کرم برس پڑا، خوشگوار موسم شہریوں کے چہروں پر رونق لے آیا
فوٹو: فائل
دن بھر کی شدید گرمی کے بعد شام ڈھلتے ہی موسم نے اچانک خوشگوار رخ اختیار کر لیا، شہر کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش اور بوندا باندی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
شیرپاؤ پل، گلبرگ، گرومانگٹ روڈ، جیل روڈ، فیروزپور روڈ، جوہر ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن، ڈیفنس اور مال روڈ سمیت مختلف علاقوں میں بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا جبکہ شہریوں نے گرمی کی شدت کم ہونے پر سکھ کا سانس لیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں 16 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹھنڈی ہوائیں چلتی رہیں جبکہ شہر کا درجہ حرارت 31 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ وقفے وقفے سے مزید بارش کا امکان موجود ہے۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات کی جانب سے ریسکیو اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ بارش اور تیز ہواؤں کے دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
بارش کے بعد لاہور کی فضا ٹھنڈی ہو گئی جبکہ سڑکوں، پارکوں اور بازاروں میں شہری خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیے۔
دوسری جانب لاہور میں مزید متوقع بارشوں کے پیشِ نظر واسا حکام نے شہر بھر میں ہنگامی انتظامات تیز کر دیے ہیں۔
وائس چیئرمین واسا چوہدری شہباز احمد، ڈی جی واسا پنجاب طیب فرید اور ایم ڈی واسا غفران احمد نے تمام مرکزی شاہراہوں اور انڈر پاسز کو ہر صورت کلیئر رکھنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ڈی جی واسا پنجاب طیب فرید نے تمام فیلڈ ٹیموں کو متحرک رہنے اور نکاسی آب کے عمل کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بارش کے دوران شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
ایم ڈی واسا غفران احمد نے ہدایت کی کہ بجلی کی بندش والے علاقوں میں تمام ڈسپوزل اسٹیشنز کو فوری طور پر جنریٹرز پر منتقل کیا جائے تاکہ نکاسی آب کا عمل متاثر نہ ہو۔
انہوں نے تمام ٹاؤن ڈائریکٹرز کو اپنے اپنے علاقوں کی مکمل مانیٹرنگ کرنے اور فیلڈ میں موجود رہنے کی بھی ہدایت کی۔
وائس چیئرمین واسا چوہدری شہباز احمد کا کہنا تھا کہ تمام ڈسپوزل اسٹیشنز کے پمپس مکمل طور پر آپریشنل رکھے جائیں جبکہ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بننے والی سکرینوں کی بروقت صفائی بھی یقینی بنائی جائے۔
واسا حکام کے مطابق شہر میں بارش کے دوران ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملہ، مشینری اور ڈسپوزل سسٹم مکمل طور پر الرٹ رکھا گیا ہے۔