درفکر
اس وقت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عوام کے مسائل وہی ہیں جو پچھلے سال تھے، جو پانچ سال پہلے تھے، جو دس سال پہلے تھے اور شاید بیس،پچاس سال پہلے بھی یعنی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی پٹرول کی قیمتیں وغیرہ وغیرہ۔ حکمران بدلے، عہدیدار بدلے لیکن عوام کی زندگیوں میں صرف یہ بدلاؤ آیا کہ مسائل کی تعداد اور شدت بڑھ گئی۔
گزرے برس عین یہی ایام تھے جب پاک فوج کی متاثر کن کارکردگی پر ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند تھا۔ بھارت نے 22 اپریل 2025 کو پہلگام کے مقام پر ہونے والے دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی ذمے داری بلا تحقیق پاکستان پر عائد کرتے ہوئے 7 مئی 2025 کو پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نو مقامات پرمیزائل حملے کیے تو جواباً پاکستان نے تین روز بعد بھارتی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور فتح مبین حاصل کی۔
دس مئی 2025 کو افواج پاکستان کی کارروائیاں اور ان کارروائیوں کے نتائج اس بات کے گواہ ہوئے کہ ملکی ادارے جب دیانت داری سے بھرپور کوششیں کرتے ہیں تو یہ چیز اس ملک کو کس طرح دنیا کے نقشے پر مثبت انداز میں نمایاں کرتی ہے اور عوام کو فایدہ پہنچاتی ہے۔
پاک بھارت کشیدگی کے مشکل وقت میں افواج پاکستان کی جانبازی کے ساتھ ساتھ سیاست دانوں کی یکجہتی، عوام کا اتحاد اور پورے ملک میں حب الوطنی کی فضا بے حد قابل تعریف تھی۔ جب کوششوں کے ساتھ نیک نیتی اور خلوص جیسے انمول جذبات شامل ہوئے تو اللہ پاک نے اپنا فضل فرماتے ہوئے ہمیں سرخرو کیا۔
اس کڑے وقت میں پاکستانیوں کے اتحاد و اتفاق نے 2005 کے زلزلے اور اسی طرز کے تباہ کن سیلابوں میں عوام کے بھائی چارے اور خلوص کی یاد دلائی۔ گزرا وقت گواہ ہے کہ جب بھی ملک پر کوئی قدرتی آفت یا پریشانی آئی، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسیوں نے بے مثال ہمدردی اور ایثار کا مظاہرہ کیا۔
تاہم یہ سب دیکھ کر ہماری سوچ اس جانب بھٹکتی ہے کہ اس طرز عمل کو ہم نے صرف مشکل وقت کے لیے کیوں سنبھال رکھا ہے؟ ہم اس رویے کو اتنا عام کیوں نہیں کرتے کہ یہ شفافیت، اداروں کی دیانت داری اور ہر خاص و عام پاکستانی کی حب الوطنی ہمیں ہماری موجودہ مشکلوں سے نکال دے۔
وہ ملک جس کے ادارے کرپشن جیسی لعنت میں جکڑے دکھائی دیتے ہیں، جہاں عوامی لین دین میں بددیانتی اور ہیرا پھیری کا راج ہے۔ عوام، جھوٹ اور دھوکہ دہی جیسے رزائل اخلاق کو عام شے سمجھتے ہوئے اپنا چکے ہوں ،وہاں پر احساس و اتحاد جیسے جذبوں کی موجودگی محسوس کرنا ،ایک گھٹن زدہ دن کے بعد ہونے والی ٹھنڈی بارش کو محسوس کرنے سے زیادہ خوبصورت ہے، کیونکہ یہ امید کے دیے ہیں جو ہمیں احساس دلاتے ہیں کہ اس پاک دھرتی کے باسیوں کا ضمیر سویا تو لگتا ہے مگر ابھی زندہ ہے۔
ہوا کے دوش پر رکھے یہ دیے ہمیں اذن دیتے ہیں کہ مایوس ہو کر نہیں بیٹھنا۔ اس وقت مایوسی دشمن کے کسی بھی ہتھیار سے زیادہ مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ ملک کو جنگی بربادی سے تو بفضل خدا ہم نے بچا لیا لیکن اب وطن پرستی کے انھی جذبوں کے ساتھ ملک کو درپیش دیگر سرد و گرم سے بھی بچانا ہے۔ ملک کو معاشی زوال جیسے بحرانوں سے نکالنا ہے۔
دیس کی ازسرنو تعمیر کرنی ہے اور اس کی ذمے داری عوام اور اداروں پر برابر کی عائد ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام اپنی غلطیوں کو درست کرے اور ادارے اپنی ذمے داریوں اور ان ذمے داریوں سے جڑی حساسیت کو سمجھتے ہوئے اپنا سو فیصدرزلٹ دیں۔ اپنے ملک کو بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا یہ واحد راستہ ہے۔
موجودہ دور نفسا نفسی کا دور ہے ۔ ہر شخص آگے بڑھنا چاہتا ہے، یہ غلط نہیں لیکن اس دوڑ میں غلط صحیح کی تمیز بھلائے غلط راہ چن لینا، اپنے سے کمزوروں کے حقوق غضب کرنا سراسر غلط ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں یہی طریق دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ایک ملک جس کی بنیاد کلمہء طیبہ ہے وہاں کے لوگوں کی اخلاقیات ایسی نہیں ہونی چاہیے کہ ہر شخص دوسرے کی حق تلفی کو معمولی عمل سمجھے۔ وہاں لوگوں کے ضمیر یوں نہیں سونے چاہیے کہ وہ اپنے فائدے کے لیے دوسروں کو نقصان پہنچانے میں کوئی عار محسوس نہ کریں۔ کسی کا ضمیر ایسے مردہ نہیں ہونا چاہیے کہ اپنی آسائشوں کے لیے وہ دوسروں کو ضرورت کے سامان سے محروم کرنے سے بھی گریز نہ کرے۔
پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ’’ہم ایک ہیں‘‘ ، بحیثیت انسان یہ بات ہر روز اپنے شعور و لاشعور میں دہرانی چاہیے کہ ہماری طرح تمام لوگ ضروریات و خواہشات رکھتے ہیں، اپنے خوابوں کے خاکوں میں رنگ بھرنے کے لیے وہ انتھک محنت کرتے ہیں۔
چند اختیارات پا کر کسی کے پاس بھی کسی کی خوابوں سے معمور آنکھوں میں مایوسی اور شکست بھرنے کا اختیار نہیں ہے۔یہ بات روز خود کو باور کروانی چاہیے کہ مال و مرتبے میں کم لوگ بھی ہمارے جیسا ہی احساسات سے بھرپور دل رکھتے ہیں، اس لیے ان کی عزت نفس کو مجروح نہیں کرنا۔
اپنے ماتحت لوگوں سے جس قدر ممکن ہو نرمی سے پیش آیا جائے۔ اجتماعی خوشحالی کے لیے’’صرف میرے بولنے سے کیا فرق پڑے گا‘‘، ’’میری سوچ بدلنے سے کیا ہوگا‘‘،چند لوگوں سے کہاں انقلاب آئے گا‘‘ جیسے بہانوں کو چھوڑ کر اپنے حصے کی شمع روشن کرنے کی روش اپنانی پڑے گی۔
کاشت کاروں کے ساتھ فصلوں کے کم ریٹ کی صورت میں ہونے والی نا انصافی کو محض اس لیے خاموشی سے نہیں دیکھنا کہ اس سے ہمیں سستی فصلیں دستیاب ہوں گی، ہماری صنعتوں کو فایدہ پہنچے گا بلکہ ان کے حق میں کمزور سی صحیح آواز ضرور بلند کرنی ہے۔
نجی اسکولوں، کالجوں کے اساتذہ اور دیگر نجی اداروں میں ملازمین کا کم تنخواہ کی صورت میں اس لیے استحصال نہیں کرنا کہ وہ مجبور ہیں بلکہ انھیں ان کی محنت کے مطابق معاوضہ دینا ہے۔ایسے کئی چھوٹے بڑے شعبے ہیں جہاں ہماری غفلتیں اور بے حس رویے بڑے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔
امید ہے کہ ہر شخص اگر انفرادی طور پر کوشش کرے تو اس کے مثبت اثرات اجتماعی سطح پر بھی نظر آنے لگیں گے۔یوں بھی بقول میاں محمد بخش :۔
’’مالی دا کم پانی دینا، بَھر بّھر مشکاں پاوے مالک دا کم پَھل پُھل لانا، لاوے یا نہ لاوے‘‘