غزہ میں سوئے ہوئے خاندان پر رات کی تاریکی میں اسرائیلی حملہ، ماں باپ اور 6 ماہ کا بچہ شہید
اسرائیل کی جانب سے غزہ کے وسطی علاقے میں کیے گئے فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید ہوگئے، جن میں ماں، باپ اور ان کا چھ ماہ کا شیر خوار بچہ بھی شامل ہے۔
حملہ نصیرات مہاجر کیمپ میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر کیا گیا، طبی حکام نے شہید ہونے والوں کی شناخت محمد ابو ملوح، ان کی اہلیہ علاء زقلان اور ان کے چھ ماہ کے بچے اسامہ کے نام سے کی ہے۔
عینی شاہدین اور اہل خانہ کے مطابق حملے کے وقت خاندان اپنے گھر میں سو رہا تھا کہ اچانک راکٹ عمارت پر آ گرا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ امدادی ٹیموں نے ملبے سے لاشیں نکالیں۔
بچے کی دادی ام حمزہ ابو ملوح نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا اپنی اہلیہ اور بچے کے ساتھ بستر پر سو رہا تھا جب حملہ ہوا۔ ان کے مطابق اس حملے میں خاندان کے تین افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ پیچھے چھ کم سن بچیاں رہ گئیں۔
رپورٹ کے مطابق بعد ازاں غزہ کے شمالی علاقے جبالیہ مہاجر کیمپ میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک طبی مرکز کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہری بھی جاں بحق ہوگیا۔
اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل کسی قسم کی پیشگی وارننگ جاری نہیں کی گئی، حالانکہ حالیہ دنوں میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کے مختلف علاقوں کے لیے انخلا کے احکامات جاری کیے جا رہے تھے۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے مکمل طور پر بند نہیں ہوسکے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
غزہ کے طبی حکام کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تقریباً 880 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔