روس کا کیف پر خوفناک ہائپرسونک حملہ، 4 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی

متاثرہ عمارتوں میں رہائشی مکانات، اسکول، یونیورسٹیاں، عجائب گھر، تھیٹر، مارکیٹس اور شاپنگ سینٹرز شامل ہیں

روس نے کیف پر ہائپرسونک ’اوریشنک‘ میزائل سمیت بڑے پیمانے پر میزائل حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق روس نے یوکرینی دارالحکومت کیف پر رات بھر شدید بمباری کی جس دوران کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور شہریوں نے جان بچانے کیلئے انڈر گراؤنڈ میٹرو اسٹیشنز میں پناہ لی۔

حملوں کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ متعدد عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہوئیں۔ متاثرہ عمارتوں میں رہائشی مکانات، اسکول، یونیورسٹیاں، عجائب گھر، تھیٹر، مارکیٹس اور شاپنگ سینٹرز شامل ہیں۔

یوکرینی صدر زیلنسکی نے حملے کو انتہائی پاگل پن پر مبنی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس نے شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کو فوری طور پر مزید فضائی دفاعی نظام کی ضرورت ہے۔

روس کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ حملے میں جوہری صلاحیت رکھنے والا ہائپرسونک اوریشنک میزائل استعمال کیا گیا۔ تاہم ماسکو نے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملے یوکرینی فوج اور انٹیلی جنس کے مراکز پر کیے گئے۔

کیف کے تمام اضلاع میں نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ تقریباً 30 عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئیں۔ حملوں سے یوکرین کی کابینہ اور وزارت خارجہ کی عمارتوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔

رپورٹس کے مطابق کیف کا قومی آرٹ میوزیم، فلہارمونک ہال اور کئی تاریخی عمارتیں بھی حملوں کی زد میں آئیں۔ ایک نیا میوزیم، جو 1986 کے چرنوبل ایٹمی حادثے کی یاد میں قائم کیا گیا تھا، مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

حملوں کے دوران البانوی سفیر کی رہائش گاہ کو بھی نقصان پہنچا، جس پر البانیہ نے احتجاج کرتے ہوئے روسی سفیر کو طلب کرلیا۔

اس کے علاوہ جرمن نشریاتی اداروں اے آرڈی اور ڈی ڈبلیو کے دفاتر بھی متاثر ہوئے جبکہ عالمی ادارہ صحت نے بتایا کہ کیف میں اس کے دفاتر کو بھی روسی حملوں کے ملبے سے نقصان پہنچا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کیف کے علاوہ خارکیف، چرکاسی اور دنیپروپیٹروسک سمیت دیگر یوکرینی علاقوں میں بھی میزائل حملے کیے گئے جہاں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

Load Next Story