پہلے نیوکلیئر دھماکے کے سبب بننے والا پتھردریافت
دنیا کے پہلے نیوکلیئر دھماکے کے بعد بننے والا کرسٹل سائنس دانوں کو مل گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ کرسٹل قدرتی طور پر دنیا میں کبھی وجود میں نہیں آ سکتا تھا۔
یہ ناممکن کرسٹل تقریباً ایک صدی پہلے امریکی ریاست نیو میکسیکو میں ایک خوفناک دھماکے کے دوران وجود میں آیا جو واشنگٹن کے تاریخی ٹرینیٹی ٹیسٹ کا حصہ تھا۔
ماہرین کے مطابق اگر پلوٹونیم امپلوژن ڈیوائس ’گیجٹ‘ کے ذریعے دنیا کا پہلا ایٹمی دھماکا نہ کیا گیا ہوتا تو یہ معدنی پتھر اس زمین پر قدرتی طور پر کبھی وجود ہی نہیں پا سکتا تھا۔
لوکا بِنڈی کی قیادت میں کام کرنے والی یونیورسٹی آف فلورنس کے ماہرین کی ٹیم نے کہا کہ ایٹمی دھماکوں کے دوران پیدا ہونے والے انتہائی شدید اور لمحاتی حالات ایسے ٹھوس مادّے تخلیق کر سکتے ہیں جنہیں روایتی سائنسی طریقوں سے بنانا ممکن نہیں۔
ٹیم نے بتایا کہ انہوں نے 1945 کے ٹرینیٹی ایٹمی تجربے کے دوران بننے والے ایک بالکل نئے کیلشیم-کاپر-سلیکیٹ ٹائپ-ون کلیتھریٹ کی دریافت کی ہے۔ یہ ایٹمی دھماکوں سے پیدا ہونے والی اشیا میں پہلا کرسٹل ساخت کے لحاظ سے تصدیق شدہ کلیتھریٹ ہے۔
یہ ہولناک اور حیرت انگیز دھماکا طاقت میں تقریباً 21 کلوٹن ٹی این ٹی کے برابر تھا۔