بھارت میں ’آموں کے بادشاہ‘ الفانسو آم کی پیداوار 90 فیصد تباہ، عالمی رپورٹ
بھارت میں پیدا ہونے والے الفانسو نامی آم جنہیں آموں کا بادشاہ کہا جاتا ہے، کی پیداوار کو رواں سال 90 فیصد نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔
تحقیقی اور درجہ بندی ایجنسی ’کریسل‘ کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت دنیا میں آم کا سب سے بڑا کاشتکار ہے جس نے 2024 سے 2025 تک 28 ملین میٹرک ٹن آم پیدا کیے ہیں۔
مہاراشٹرا اپنے الفانسو آموں کے لیے مشہور ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ شدید گرم موسم نے اس سال کی فصل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
مہاراشٹرا کے ایک گاؤں کے ایک اعلیٰ زراعتی افسر باپوصاحب مانیکراؤ لمباڈے نے کہا کہ دسمبر اور جنوری میں دن اور رات کے درجہ حرارت میں شدید فرق نے پھولوں اور پھلوں کی پیداوار کو نقصان پہنچایا ہے۔
اس سال کے شروع میں سائنسدانوں اور فیلڈ حکام کے ذریعہ حکومت کے حمایت یافتہ سروے، جس کی ایک کاپی کا جائزہ رائٹرز نے لیا، میں اس سال کی آموں فصل کے نقصانات کا تخمینہ 85% سے 90% تک لگایا گیا۔ انتہائی موسمی حالات نے ریاست کے دیگر مقامات پر آم اگانے والے علاقوں میں بھی نقصان پہنچایا ہے۔
رائٹرز نے مہاراشٹر کے ایک درجن سے زیادہ کسانوں کے ساتھ ساتھ تاجروں، کاروباروں، برآمد کنندگان اور سرکاری عہدیداروں سے بات کی جنہوں نے کہا کہ نقصانات شدید ہیں اور پیداوار دہائیوں میں سب سے کم ہے۔