ترکیہ کا عراق کے ساتھ 30 ارب ڈالر کے تجاری حجم کو بڑھانے کا منصوبہ
ترکیہ عراق کے ساتھ اپنے تجارتی حجم کو سالانہ 30 ارب ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عراق میں ترکیہ کے سفیر انیل بورا انان نے کہا کہ انقرہ خود کو بغداد کے اہم تجارتی شراکت داروں میں سے ایک کے طور پر مستحکم کر رہا ہے۔
ترک سفیر نے عراقی سرکاری اخبار الصباح کو بتایا کہ عراق خطے کے اہم تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے، 2025 میں ترکی کی کل برآمدات 12.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں اور ہم دونوں ممالک کے درمیان آنے والے عرصے میں تجارتی حجم کو کم از کم 30 ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی پیش رفت سے قطع نظر ترکیہ عراق کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے اصولی نقطہ نظر رکھتا ہے، خاص طور پر باہمی مفادات پر مبنی تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے حوالے سے۔ انقرہ عراقی معیشت کی حمایت میں پہلے ہی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں انقرہ اور بغداد کے درمیان اقتصادی تعلقات پانی کی تقسیم پر جاری تنازعات اور عراق کی جانب سے ملک میں ترک فوجی کارروائیوں پر طویل تنقید کے باوجود گہرے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ عراق ترک سامان کی ایک وسیع رینج درآمد کرتا ہے، جس میں خوراک کی مصنوعات، تعمیراتی سامان، مشینری، ٹیکسٹائل اور گھریلو اشیاء شامل ہیں۔ ترکیہ کی کمپنیاں عراق کے تعمیراتی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بھی اپنی مضبوط موجودگی کو برقرار رکھتی ہیں، خاص طور پر کردستان کے علاقے میں۔کردستان کے علاقے ترکی کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات بھی رکھتے ہیں، اربیل اور انقرہ کے درمیان تجارتی حجم سالانہ 5 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔