چین نے جاپان، آسٹریلیا، بھارت اور امریکا کے اتحاد کو وارننگ دے دی
چین نے امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے کواڈ اتحاد پر تنقید کرتے ہوئے انہیں دوسرے ممالک کو نشانہ بنانے پر وارننگ دے دی ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے چاروں ممالک کے اتحاد کے اعلیٰ سفارت کاروں کی ملاقات کے حوالے سے ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ ہم خصوصی 'چھوٹے حلقوں' یا بلاک کے تصادم کی حمایت نہیں کرتے ہیں کیونکہ اس سے کسی خطے کے ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ہمیشہ اس بات پر یقین کیا ہے کہ ممالک کے درمیان تعاون سے علاقائی امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے میں مدد ملنی چاہیے اور کسی تیسرے فریق کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
ترجمان نے جاپانی چیف کیبنٹ سیکرٹری مینورو کیہارا کے ریمارکس کا بھی جواب دیا جنھوں نے کہا تھا کہ جاپان کی خصوصی طور پر دفاعی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور جاپانی نو عسکریت پسندی کے بارے میں چین کے دعوے بے بنیاد ہیں۔
ترجمان نے جاپان پر زور دیا کہ وہ تاریخ سے گہرا سبق حاصل کرے، امن کے لیے اپنے عزم کا احترام کرے اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے اپنے ایشیائی پڑوسیوں اور بین الاقوامی برادری کا اعتماد جیتے۔
واضح رہے کہ بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے نئی دہلی میں بات چیت کے لیے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، آسٹریلیا کے وزیر خارجہ پینی وونگ اور جاپانی وزیر خارجہ توشیمتسو موتیگی کی میزبانی کی تھی جس میں چاروں ممالک نے سمندری نگرانی، اہم معدنی سپلائی چین اور توانائی کی حفاظت کے حوالے سے نئے اقدامات کا اعلان کیا اور یہ بھی کہا کہ وہ متنازعہ جنوبی بحیرہ چین اور مشرقی بحیرہ چین کی صورت حال کے بارے میں فکر مند ہیں۔
2007 میں قائم ہونے والے کواڈ اتحاد نے حالیہ برسوں میں انڈو پیسیفک میں چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان تعاون کو بڑھایا ہے۔