ملک میں بڑھتا درجہ حرارت، گلیشیئرز پگھلنے سے لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے خطرے میں اضافہ
ملک میں بڑھتے درجہ حرارت اور شدید گرمی کی لہر کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے لگے، جس کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے 26 سے 31 مئی تک ملک بھر میں متوقع موسمی صورتحال کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت 40 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب شدید گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر قومی سطح پر تیاریوں کا جائزہ شروع کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کی ہدایات پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز نے پیشگی اقدامات شروع کر دیے ہیں، جن میں عوامی آگاہی مہم، ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کی تعیناتی، کولنگ سینٹرز کا قیام اور طبی سہولیات کی بہتری شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی علاقوں گلگت بلتستان، بالائی خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور پہاڑی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ہنزہ، نگر، گلگت، چلاس، استور، شگر، چترال، کالام، بالائی کوہستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق شمشال، عطا آباد جھیل، کریم آباد، گلمیت، ششکت بالا اور پاسو کے درمیان رابطہ سڑکیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متاثر ہو سکتی ہیں، جبکہ شاہراہ قراقرم، شگر ویلی روڈ، سکردو روڈ اور دیوسائی روڈ کی بندش کا خدشہ بھی موجود ہے۔
ادھر تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث درکوٹ، لاشٹ، ریشن، بونی، بدسوات، شسپر، گلگن، ہنارچی، روشن اور کمراٹ سمیت کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ پہاڑی ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی آسکتی ہے، جبکہ ہنزہ، غذر، دیامیر، استور، گھانچے، شگر، چترال، دیر، سوات اور کوہستان کے علاقوں میں بھی سیلاب کا خدشہ موجود ہے۔
سندھ کے جیکب آباد، کمبر شہداد کوٹ، دادو، جامشورو، خیرپور، سانگھڑ، عمرکوٹ، سکھر، گھوٹکی اور میرپور خاص جبکہ بلوچستان کے چاغی، واشک، خاران، تربت، سبی، نصیر آباد اور جعفر آباد شدید گرمی سے متاثر رہیں گے۔
پنجاب کے ملتان، لودھراں، رحیم یار خان، بہاولپور، بہاولنگر، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، مظفرگڑھ، بھکر، لیہ، لاہور، ساہیوال اور قصور میں بھی گرمی کی شدت بڑھنے کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی اقدامات اور پیشگی تیاری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز اور خراب موسم میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔
اتھارٹی نے شدید گرمی کے پیش نظر یونیفارم اور لباس سے متعلق ایڈوائزری بھی جاری کی ہے، جس میں ہلکے رنگ اور ڈھیلے ڈھالے لباس استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ گرمی کے اثرات اور سانس کے مسائل سے بچا جا سکے۔
این ڈی ایم اے نے سیاحوں اور پہاڑی علاقوں کے رہائشیوں کو لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش کے خطرات کے پیش نظر محتاط رہنے اور موسمی صورتحال سے باخبر رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام مستند معلومات اور حفاظتی تدابیر کے لیے ’’پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ‘‘ ایپ سے رہنمائی حاصل کریں۔