قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے

احتیاطی تدابیر اپنانے سے گوشت زیادہ محفوظ رہتا ہے

عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے گوشت کو محفوظ رکھنا ہر گھر کی ضرورت بن جاتا ہے، خاص طور پر گرمیوں کے موسم، شدید درجہ حرارت اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران یہ مسئلہ مزید حساس ہو جاتا ہے۔

اگرچہ گوشت کو فریز کرنا اسے خراب ہونے سے بچانے کا عام اور مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے، تاہم طبی اور فوڈ سیفٹی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ گوشت کو ضرورت سے زیادہ عرصے تک فریزر میں رکھنا بھی صحت اور غذائیت کے لحاظ سے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق قربانی کے گوشت کو محفوظ کرنے کے لیے سب سے پہلے اسے اچھی طرح صاف کیا جائے، دھونے کے بعد اضافی نمی کو صاف کپڑے یا ٹشو سے خشک کیا جائے، پھر مناسب سائز کے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ایئر ٹائٹ ڈبوں یا فوڈ گریڈ پلاسٹک بیگز میں محفوظ کیا جائے۔ اس طریقے سے گوشت کی تازگی، ذائقہ اور معیار بہتر برقرار رہتا ہے۔

گوشت کو محفوظ رکھنے کے لیے فریزر کا درجہ حرارت کم از کم منفی 18 ڈگری سینٹی گریڈ ہونا ضروری ہے۔ یہی درجہ حرارت بیکٹیریا کی افزائش کو مؤثر انداز میں روکتا ہے۔ تاہم گرمیوں میں بار بار لوڈشیڈنگ، فریزر کا درجہ حرارت متاثر ہونے یا دروازہ بار بار کھلنے کی صورت میں گوشت جزوی طور پر پگھل سکتا ہے، جس سے خون رسنے لگتا ہے اور جراثیم پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ تکنیکی طور پر گوشت کئی ماہ تک فریز کیا جا سکتا ہے، مگر گھریلو استعمال کے لیے بہتر یہی ہے کہ قربانی کا گوشت دو ہفتوں سے چند ماہ کے اندر استعمال کر لیا جائے تاکہ اس کی غذائیت، ذائقہ اور معیار متاثر نہ ہو۔ زیادہ عرصے تک فریز کرنے سے گوشت میں ’’فریزر برن‘‘ پیدا ہو سکتا ہے، جس سے گوشت خشک، بے ذائقہ اور ساخت میں کمزور ہو جاتا ہے۔

صحت کے ماہرین مزید مشورہ دیتے ہیں کہ گوشت پکاتے وقت زیادہ چکنائی اور مصالحہ جات سے گریز کیا جائے تاکہ ہاضمے پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔ گوشت کے استعمال کے بعد لیموں پانی، ڈیٹاکس واٹر یا زیادہ پانی پینا معدے کو بہتر رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ ایک بار پگھلایا گیا گوشت دوبارہ فریز نہ کیا جائے، کیونکہ اس عمل سے بیکٹیریا کی افزائش کا خطرہ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق قربانی کے گوشت کی حفاظت صرف فریز کرنے تک محدود نہیں بلکہ درست درجہ حرارت، مناسب پیکنگ، بجلی کے تسلسل اور بروقت استعمال پر بھی منحصر ہے۔ احتیاطی تدابیر اپنانے سے نہ صرف گوشت زیادہ محفوظ رہتا ہے بلکہ خاندان کو فوڈ پوائزننگ اور دیگر طبی پیچیدگیوں سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔

Load Next Story