پاکستان کا ایٹمی پروگرام خطے میں امن اور دفاعی توازن کی ضمانت؛ یومِ تکبیر پر صدر اور وزیراعظم کے پیغامات

دشمن کسی غلط فہمی میں نہ رہے، ہماری بہادر مسلح افواج جدید ترین ہتھیاروں سے لیس مادر وطن کے چپے چپے کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں، وزیراعظم

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ تکبیر کے حوالے سے اپنے خاص پیغامات جاری کیے ہیں۔

یوم تکبیر 2026ء کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ 28 مئی پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے ملک کو ناقابلِ تسخیر دفاع اور اسٹریٹیجک خودمختاری فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ دن قومی سلامتی اور دفاعی صلاحیت کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی علامت ہے۔

اپنے پیغام میں صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام قومی دفاع اور سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر ملکی سائنسدانوں اور مسلح افواج کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم ان شخصیات کی قربانیوں اور محنت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

آصف زرداری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود پاکستان نے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کیا اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے فیصلے پر ثابت قدم رہا۔ ملک کی دفاعی حکمت عملی نہ صرف قومی سلامتی بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

آصف علی زرداری نے جدید جنگی رجحانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں سائبر وار فیئر، مصنوعی ذہانت اور ڈرون ٹیکنالوجی جنگی حکمت عملی میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کریں گے، لہٰذا پاکستان کو ان شعبوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ایٹمی ریاست ہے اور اس کے کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

دریں اثنا وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے یوم تکبیر  کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ یوم تکبیر پاکستان کی تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جب پوری قوم نے غیر متزلزل عزم، قومی وحدت اور بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 28 مئی 1998ء کو پاکستان نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں کامیاب جوہری دھماکے کر کے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن بحال کیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہم اپنی دفاعی صلاحیت سے ہر گز غافل نہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ یہ دن گواہی دیتا ہے کہ مملکت خداداد جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور قائداعظم محمد علی جناح نے اسے خطہ ارض پر نقش کیا اسکا دفاع آہنی ہاتھوں میں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج کے دن ہم پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تکمیل میں شامل تمام شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جن میں ذوالفقار علی بھٹو کی فکر انگیزی اور محمد نواز شریف کی بے لوث فیصلہ سازی اور قیادت اور قومی ہیروز ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی خدمات شامل ہیں۔

علاوہ ازیں ان تمام سائنسدانوں، انجینئرز، ماہرین، افواجِ پاکستان اور کارکنان کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے اپنے جنگی جنون ، انتہا پسندانہ سوچ اور توسیع پسندانہ عزائم کے اظہار کے لیے ایٹمی دھماکے کیے تھے۔ پاکستان نے دانشمندانہ اور بروقت فیصلہ کرتے ہوئے جوابی دھماکوں سے دشمن کے تمام عزائم خاک میں ملادیے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی بڑی طاقتوں نے پاکستان کو جوہری دھماکوں سے روکنےکی کوشش کی، معاشی دباؤ ڈالا، پابندیوں کی دھمکیاں دیں، حتی کہ بھاری معاشی و مالی پیشکش کی، لیکن  وزیر اعظم پاکستان  نواز شریف کسی بھی دباو یا لالچ کو خاطر میں لائے بغیر اپنی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پر عزم تھے۔

شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ یوم تکبیر محض ایٹمی دھماکوں کی یاد نہیں بلکہ یہ قومی خودداری، اتحاد، قربانی اور دفاع وطن کے ناقابل تسخیر عزم کی علامت ہے۔

پاکستان کا ایٹمی پرو گرام ہر دور میں جاری رکھ کر ہمارے اسلاف نے ثابت کیا کہ ملکی وقار سے بڑھ کر کوئی چیز مقدم نہیں۔ اگر پاکستان ایٹمی قوت نہ بنتا تو دشمن اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا تھا۔ پاکستان کا مضبوط ایٹمی حصار اور مسلح افواج کی تیاری اور عزم دشمن کے عزائم کی راہ میں فیصلہ کن رکاوٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر ہم اپنے اس عزم کو ثابت کر چکے ہیں۔ ہندوستان نے اپنی فرسودہ اور گھسی پٹی سازش کے ذریعے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا اور اسے جواز بنا کر پاکستان کے شہریوں اور مساجد پر حملہ کر دیا، تاہم ہماری مسلح افواج اور قوم نے بنیان المرصوص بن کر نہ صرف اس کے عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ اس کی حربی و عددی برتری کے گھمنڈ کو بھی توڑ کے رکھ دیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف،چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے فقید المثال پیشہ ورانہ استعداد کا مظاہرہ کیا۔ چیف آف دی ائیر اسٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کی مثالی کارکردگی نے دشمن پر ہماری بہادری کی دھاک بٹھا دی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پوری دنیا کو یہ باور کرادیا ہے کہ ہمارے کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں تاہم اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معرکہ حق میں عبرت ناک شکست کے بعد دشمن براہ راست حملوں کے بجائے دوسرے ہتھکنڈوں سے ہماری سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ وہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان جیسی پر اکسیز کے ذریعے اپنے مکروہ عزائم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں افغان رجیم اس کی سہولت کار ہے۔ ہم اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پر عزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں ہم نے آپریشن بنیان المرصوص کے ذریعے ازلی دشمن کو عبرت ناک شکست دی، وہیں آپریشن غضب للحق کے ذریعے ایسے تمام فتنوں اور ان کے سہولت کاروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

اپنے پیغام میں وزیراعظم نے متنبہ کیا کہ دشمن کسی غلط فہمی میں نہ ر ہے، ہماری بہادر مسلح افواج جدید ترین ہتھیاروں سے لیس مادر وطن کے چپے چپے کے دفاع کے لیے پر عزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قوم اپنے ان محسنوں کی ہمیشہ شکر گزار رہے گی۔ آئیے ، اس عہد کی تجدید کریں کہ وطن عزیز کے امن ، ترقی ، استحکام اور سلامتی کے لیے متحد رہیں گے ، ہر اندرونی و بیرونی سازش کا مقابلہ کریں گے  اور ہم پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار ریاست بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لاتے رہیں گے۔

Load Next Story