نیتن یاہو کا غزہ کے 70 فیصد علاقے پر قبضہ کا اعلان، جرمنی کا سخت ردعمل آگیا

برلن فلسطینی علاقوں کی مستقل تقسیم یا طویل فوجی قبضے کی حمایت نہیں کرتا، ترجمان جرمن وزارت خارجہ

جرمنی نے غزہ کے مزید علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی علاقے کی مستقل تقسیم قابل قبول نہیں۔

الجزیرہ کے مطابق جرمن حکومت کے ترجمان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کی صورتحال پہلے ہی انتہائی سنگین ہے اور مزید فوجی قبضے کے منصوبے خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو غزہ کے 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی افواج پہلے ہی تقریباً 60 فیصد غزہ پر مؤثر کنٹرول رکھتی ہیں اور اب مزید علاقوں پر قبضہ کیا جائے گا۔

جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ برلن فلسطینی علاقوں کی مستقل تقسیم یا طویل فوجی قبضے کی حمایت نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں انسانی بحران پہلے ہی خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے اور صورتحال کے سیاسی حل کی ضرورت ہے۔

اگرچہ جرمنی روایتی طور پر اسرائیل کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے تاہم گزشتہ سال برلن نے اسرائیل کو ایسے فوجی ساز و سامان کی برآمدات معطل کردی تھیں جو غزہ میں استعمال ہوسکتے تھے۔

یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا تھا جب اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے غزہ سٹی پر مکمل قبضے کا منصوبہ منظور کیا تھا۔

دوسری جانب فلسطینی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اسرائیلی منصوبوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ اور فوجی کارروائیوں نے لاکھوں شہریوں کو بے گھر کردیا ہے جبکہ بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے۔

عالمی مبصرین کے مطابق جرمنی کا حالیہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ یورپی ممالک اب غزہ کی صورتحال پر پہلے سے زیادہ محتاط مؤقف اختیار کر رہے ہیں اور اسرائیلی پالیسیوں پر کھل کر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

Load Next Story