گوشت کھانے والوں اور لمبی عمر کے درمیان تعلق پر نئی تحقیق، ماہرین بھی حیران

یہ تحقیق چین کے تین بڑے اداروں کے ماہرین نے مشترکہ طور پر انجام دی ہے

چین میں کی جانے والی ایک نئی طبی تحقیق نے گوشت کے استعمال اور لمبی عمر کے درمیان دلچسپ تعلق سامنے لا کر سب کو حیران کر دیا ہے۔

تحقیق کے مطابق 80 سال یا اس سے زائد عمر کی وہ خواتین جو گوشت کھاتی ہیں، ان کے 100 برس کی عمر تک پہنچنے کے امکانات سبزی خور خواتین کے مقابلے میں زیادہ پائے گئے، تاہم مردوں میں ایسا کوئی واضح فرق دیکھنے میں نہیں آیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تحقیق چین کے تین بڑے اداروں کے ماہرین نے مشترکہ طور پر انجام دی، جن میں فوڈان یونیورسٹی، چائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن اور شنگھائی جیاؤ ٹونگ یونیورسٹی شامل ہیں۔

تحقیق میں یہ دلچسپ بات بھی سامنے آئی کہ گوشت کے استعمال کا مثبت اثر صرف ان خواتین میں دیکھا گیا جن کا وزن معمول سے کم تھا۔ نتائج کے مطابق کم وزن رکھنے والی گوشت خور خواتین میں 100 سال تک زندہ رہنے کے امکانات 44 فیصد زیادہ تھے، جبکہ نارمل یا زیادہ وزن والی خواتین میں گوشت کھانے یا نہ کھانے سے کوئی خاص فرق سامنے نہیں آیا۔

ماہرین نے مزید بتایا کہ وہ خواتین جو مکمل سبزی خور تھیں لیکن اپنی غذا میں مچھلی، انڈے یا دودھ جیسی پروٹین سے بھرپور اشیا شامل رکھتی تھیں، ان کی متوقع عمر بھی گوشت کھانے والی خواتین کے قریب دیکھی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل اہمیت متوازن غذا اور مناسب پروٹین کی ہے، نہ کہ صرف گوشت یا سبزی خوری کی۔

تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی کمزوری، پٹھوں کی طاقت میں کمی اور وزن گرنے جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں، اس لیے بزرگ افراد کو اپنی غذا میں مناسب پروٹین اور کیلوریز شامل رکھنی چاہئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان افراد کے لیے پھل اور سبزیاں بے حد فائدہ مند ہیں، لیکن بڑھتی عمر میں جسم کو زیادہ مضبوط رکھنے کے لیے اضافی پروٹین کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لمبی اور صحت مند زندگی کا راز کسی ایک خوراک میں نہیں بلکہ متوازن غذا میں پوشیدہ ہے، جس میں سبزیوں کے ساتھ جانوروں سے حاصل ہونے والی غذائیں بھی مناسب مقدار میں شامل ہوں۔ ان کے مطابق بڑھاپے میں حد سے زیادہ کم وزن ہونا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ پروٹین سے بھرپور غذا جسمانی طاقت برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
 

Load Next Story