اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی خواتین اور بچوں تک کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا؛ اقوام متحدہ

غزہ اور مغربی کنارے کے 14 مردوں، 7 خواتین، 9 کم عمر بچوں اور ایک بچی کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات کی تصدیق ہوئی

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اسرائیلی جیل میں جنسی تشدد کی تصدیق کی گئی

اقوامِ متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جنسی تشدد، اجتماعی زیادتی اور جنسی ہراسانی کے متعدد واقعات انکشاف کیا گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 35 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں دنیا بھر کے جنگی تنازعات میں جنسی تشدد کے واقعات کا جائزہ لیا گیا۔

اقوامِ متحدہ نے اس رپورٹ میں 2025 کے دوران اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف جنسی تشدد کے منظم رجحانات دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیے تھے جس کے لیے متعدد انٹرویوز کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے 14 مردوں، 7 خواتین، 9 کم عمر لڑکوں اور ایک بچی کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات کی تصدیق کی گئی جن میں بعض واقعات کو تشدد اور اذیت دینے کے حربے کے طور پر استعمال کیا گیا۔

گزشتہ برس 2025 میں ایسے 13 واقعات جبکہ 2023 اور 2024 کے دوران 18 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

اقوامِ متحدہ نے کم از کم 9 متاثرین کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سے بیشتر غزہ سے تعلق رکھتے تھے اور انھیں اسرائیلی فوج، اسرائیلی جیل سروس، خصوصی فورسز اور پولیس یونٹس کے اہلکاروں نے زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، بعض متاثرین کے ساتھ یہ عمل کئی مرتبہ دہرایا گیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل کو اقوامِ متحدہ کی اُس بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا ہے جس میں جنگی تنازعات کے دوران جنسی تشدد میں ملوث فریقوں کو نامزد کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ حماس کو بھی شامل رکھا گیا ہے جسے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد پہلے ہی فہرست میں شامل کیا جا چکا تھا۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں روسی افواج کو بھی پہلی مرتبہ شامل کیا گیا۔ یوکرین جنگ کے دوران روسی فورسز پر جنگی قیدیوں اور زیرِ حراست شہریوں کے خلاف جنسی تشدد کے الزامات سامنے آئے۔

اسرائیل اور روس دونوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ میں مجموعی طور پر ایک درجن ممالک کے 77 سرکاری اور غیر سرکاری گروہوں کو شامل کیا گیا ہے جن پر جنگی حالات میں جنسی تشدد کے الزامات ہیں۔

اسرائیل کے اقوامِ متحدہ میں سفیر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اسرائیل اب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ مزید تعلقات نہیں رکھے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انتونیو گوتریس نے اسرائیل کو حماس، داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔

انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کو ان الزامات کے حوالے سے دستاویزات، اعداد و شمار اور تفصیلی جوابات فراہم کیے تھے تاہم انہیں نظر انداز کیا گیا۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ رپورٹ آزادانہ تحقیقات، عینی شاہدین کے بیانات، طبی شواہد اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

 

Load Next Story