آبادی میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ

دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جہاں مقامی آبادی کم ہے یا کم ہو رہی ہے اور انھیں بیرونی ممالک سے آئے ہوئے ذہین،محنتی اور کارآمد افراد کی ضرورت ہے۔

دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جہاں مقامی آبادی کم ہے یا کم ہو رہی ہے اور انھیں بیرونی ممالک سے آئے ہوئے ذہین،محنتی اور کارآمد افراد کی ضرورت ہے۔ان میں مشرقِ وسطٰی کے خلیجی اور کئی یورپی ممالک نمایاں ہیں۔ان ممالک کی ترقی اس بات کی مرہونِ منت ہے کہ روزگار کی تلاش میں باہر سے لوگ وہاں آئیں۔یہ تارکینِ وطن جہاں اپنے لیے نئے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں وہیں اپنی لگن اور محنت سے ان ممالک کی قسمت اور لینڈ سکیپ بدل دیتے ہیں۔آپ متحدہ عرب امارات کو ہی لے لیں۔ان کی سب سے مشہور اور سب سے بڑی ایئر لائن امارات ایئر لائن کی بنیاد ہی پی آئی اے کے ہوابازوں اور ہنر مندوں نے رکھی۔

امارات کی پہلی فلائٹ بھی دوبئی اور کراچی کے درمیان تھی۔آج یہ ایئر لائن ترقی کرتے کرتے دنیا کی ایک بڑی اور اہم ایئر لائن ہے۔اس ترقی میں پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے کئی ممالک کے ہنر مندوں اور قابل ترین افراد کی محنتِِ شاقہ شامل ہے۔سعودی عرب اور دوسرے کئی ممالک کی روز افزوں ترقی کا دارومدار بھی بیرونی لیبر پر ہے۔ان ممالک کی تیل کی وافر آمدن کو وہاں کے حکمرانوں کی اچھی پلاننگ اور بیرونِ ملک سے آئے ہنر مند افراد نے ڈویلپمنٹ کے دھارے میں بدل دیا۔اب کوئی شاید خیال بھی نہیں کر سکتا کہ صرف پانچ چھ دہائیوں پہلے یہاں خاک اڑتی تھی۔

برِ صغیر کا خطہ بہت زیادہ آبادی والا علاقہ ہے۔بنگلہ دیش،انڈیا اور پاکستان تینوں ممالک کی کل آبادی کو دیکھیں تو یہ پوری دنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ بنے گی۔پاکستان تو بہت زیادہ آبادی والا ملک ہے ہی۔1947میںجب یہ ملک معرضِ وجود میں آیا تو یہ دو حصوں یعنی مشرقی اور مغربی پاکستان پر مشتمل تھا۔اس وقت دونوں حصوں کی آبادی ملا کر کوئی 33سے34ملین افراد تھی۔ یہ تخمینہ مردم شماری کے بغیر تھا۔پاکستان میں پہلی مردم شماری 1951میں کروائی گئی جس سے معلوم ہوا کہ پاکستان کی آبادی 36ملین ہے۔اس دوران انڈیا سے بے شمار خاندان ہجرت کر کے پاکستان آتے رہے۔یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری شرحِ آبادی مسلسل بڑھتی رہی،اس میں تیزی سے اضافہ ہوتا رہا۔1961میںیہ آبادی 46ملین ہو گئی۔

اگلے دس سالوں میں پاکستان کی آبادی بڑھ کر65ملین ہو چکی تھی۔ہر دس سال کے بعد ہونے والی مردم شماری 1971میں خانہ جنگی، انڈیا کے ساتھ جنگ اور اس کے نتیجے میں ملک کے دو لخت ہوجانے کی وجہ سے منعقد نہ ہو سکی۔ 1981میں پاکستان کی آبادی بڑھ کر84.3 ہو چکی تھی۔آبادی میں ہر گزرتے سال بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا۔1991میں یہ آبادی 115ملین، 1998 میں 132.8 ملین، 2008 میں 184 ملین،2017میں 207.7ملین،2023 میں 241.5 ملین اور اندازہ ہے کہ مارچ 2026 میں 258 ملین ہو گی۔

ہمارے ہاں مردم شماری صحیح اوقات پر نہیں ہوتی رہی اور مختلف حلقے اس کے نتائج کو تسلیم کرنے سے پہلوتہی بھی کرتے دکھائی دئیے۔کچھ حلقوں بشمول صوبوں کی طرف سے نتائج کو بدلنے کا مطالبہ بھی ہوتا رہا کیونکہ نیشنل فنانس کمیشن فنڈز کی تقسیم آبادی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کرنے کا پابند ہے۔2023کی مردم شماری جو انتہائی قابل اور ذہین بیوروکریٹ جناب آصف باجوہ کی سربراہی اور نگرانی میں کروائی گئی وہ ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری تھی۔

کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہر مہینے تین لاکھ افراد کا اضافہ ہو جاتا ہے یوں چلتے چلتے ہماری موجودہ 25کروڑ کی آبادی اگلے 30سال میں دگنی ہو کر 50کروڑ ہو جائے گی۔ساؤتھ ایشین ایوریج 1.3سے1.5ہے جب کہ انڈیا اور ایران نے بہت اچھی فیملی پلاننگ کر کے اس کو ایک فی صد کر لیا ہے۔بنگلہ دیش جس کی 1971میں مشرقی پاکستان کی حیثیت سے آبادی مغربی پاکستان کی آبادی سے زیادہ تھی،اس ملک نے بھی بڑھتی آبادی پر بہت کامیابی سے قابو پایا ہے اور اب اس کی آبادی پاکستان کی آبادی سے کہیں کم ہے۔ ساؤتھ ایشین ایوریج کے خلاف پاکستان کی شرحِ آبادی2.5سے اوپر ہے۔

یہ شرحِ آبادی بہت زیادہ ہے۔پاکستان کی آبادی کا تقریباً دو تہائی 30سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔اس لحاظ سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوان ہیں۔یہ خواتین و حضرات ابھی بچے پیدا کرنے کی عمر میں ہیں اس لیے غالب امکان ہے کہ یہ آبادی کو مزید تیزی سے بڑھا سکتے ہیں۔یہ صورتحال ہرگز حوصلہ افزا نہیں۔ ایک طرف پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کی جی ڈی پی اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔غربت کی شرح جو پہلے شاید 22فیصد تھی حالیہ دنوں میں بڑھ کر 30 فیصد ہو گئی ہے۔غربت مایوسی کو جنم دیتی ہے اور مایوسی جنگ پر منتج ہوتی ہے۔

اگر پاکستان کی شرحِ آبادی دو فیصد ہو تو آبادی میں اضافہ نہیں ہوگا اور آبادی بڑھنے کے بجائے موجودہ سطح پر قائم رہے گی لیکن ہم تو 2.0کی شرح سے کافی اوپر ہیں اور آبادی میں تیزی سے اضافہ کر رہے ہیں۔ذرا سی امید کی کرن پیدا ہوئی ہے کہ 1991میںہمارے ہاںایک عورت کے حصے میں کم از کم6بچے آتے تھے۔اب ایک عورت کے حصے میں 4بچے آتے ہیں۔ہمیں بڑھوتی کی اس رفتار کو کم کرنا ہوگا۔اگر انڈیا،بنگلہ دیش اور سب سے بڑھ کر چین آبادی میں کمی کا یہ معرکہ سر انجام دے سکتا ہے تو ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔

چین نے کچھ عرصے کے لیے فی فیملی صرف ایک بچہ پیدا کرنے کی پابندی لگائی۔ اس سے وقتی طور پر کئی معاشرتی اور نفسیاتی مسائل نے جنم لیا لیکن چین شرحِ پیدائش کو بہت کم سطح پر لانے میں کامیاب رہا اور اب پابندی بھی برقرار نہیں رہی۔اسی دوران چین کی کیمونسٹ پارٹی کی حکومت نے معیشت کو اس طرح جلا بخشی کہ صرف تیس سالوں میں ستر سے اسی کروڑ آبادی کو خطِ غربت سے اوپر اُٹھا لیا۔یہ ایک معاشی عجوبہ ہے۔

ملک میں کوئی بھی اس وقت تک متاثر کن اور فعال پالیسی نہیںبن سکتی جب تک شرحِ آبادی میں کمی یا ٹھہراؤ نہ آ جائے۔تیزی سے بڑھتی آبادی ہر پلاننگ کو تلپٹ کر دیتی ہے۔آبادی میں تیز اضافے کی متعدد وجوہات ہیں۔ کنٹراسپشن Contraceptionکا کم استعمال ایک وجہ ہے لیکن اگر یہ ہو بھی جائے تو ناکافی ہو گا کیونکہ دیہی علاقوں اور ورکنگ کلاس میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جتنے بچے زیادہ ہوں گے اتنے ہی کمانے والے ہاتھ مہیا ہوں گے۔آبادی کو بڑھنے سے روکنے کا شعور بہت ہی اہم ہے۔اگر شعور پیدا ہو جائے تو ٹارگٹ حاصل کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔شعور اجاگر کرنے کے لیے مسلسل،لمبی اور ایگریسو Agressiveمہم چلانی ہو گی۔آگہی مہم چلانے سے پہلے مذہبی سیاستدانوں،علماء اور مساجد کے اماموں و خطیبوں کو مہم میں حصہ ڈالنے پر راضی کرنا ہوگا۔

ان کو سمجھانا ہوگا کہ وہ اس مہم میں شامل ہو کر ملک و قوم کی بے پناہ خدمت کریں گے۔خواتین کی آگاہی بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے۔خواتین اگر پاکستان کی بڑھتی آبادی کے خوفناک نتائج سے آگاہ ہوں گی اور اگر وہ وقفہ کرنے سے ان کی اپنی صحت پر پڑنے والے اچھے اثرات سے آگاہ ہوں گی تو کامیابی تقریباً یقینی ہو گی۔چونکہ شہروں کے مقابلے میں دیہاتوں میں شرحِ پیدائش زیادہ ہے اس لیے اس مہم کو دیہاتوں اور چھوٹے قصبوں تک لے کر جانا ہوگا۔افسوس ہے کہ اس وقت تک یہ مسئلہ حکومت کی ترجیحات میں کہیں نظر نہیں آتا۔ خدا کرے حکومت اس کا بیڑہ اٹھائے کہ ہم نے ہر حالت میں آبادی میں بڑھوتی کو نہ صرف روکنا ہے بلکہ اسے بہت کم کرنا ہے۔خدا کرے کہ ملک کے تمام طبقے بڑھوتی کے منفی نتائج سے آگاہ ہو کر اس کارِ خیر میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔

Load Next Story