بری حکمرانی کا ذمے دارکون؟

بانی پاکستان کی رحلت کے بعد ملک میں بہت ہی کم ایسے حکمران آئے جن پر بری حکمرانی کا الزام لگا ہو۔

m_saeedarain@hotmail.com

بعض اپوزیشن رہنما بالخصوص پی ٹی آئی کے کچھ رہنماحکومت دشمنی میں ایسے ایسے سیاسی بیانات دے دیتے ہیں جو قابل اعتراض ٹھہرتے ہیں۔حکومت سے سیاسی مخالفت اپنی جگہ مگر اپوزیشن رہنماؤں کو بیانات دیتے وقت احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ہر رکن اسمبلی خواہ اس کا تعلق حزب اقتدار سے ہو یا حزب مخالف سے اسمبلی میں اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے وقت ملک سے وفاداری کا عہد کرتا ہے۔مگر افسوس یہ ہے کہ بعدازاں بعض اپوزیشن رہنما حکومت مخالفت میں ہر حد پار کر جاتے ہیں اور کچھ تو ایسے بیانات دے دیتے ہیں جس سے ملکی سالمیت اور وفاداری کے بارے میں سوالات اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے بھی کچھ ایسی ہی شکایات سامنے آتی ہیں ۔

انھوں نے پہلے رکن اسمبلی اور بعد میں وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھاتے ہوئے پاکستان سے وفاداری اور ملک سے خیرخواہی کا عہد کیاہوا ہے،ان کی حب الوطنی پر کوئی شک نہیں وہ ملک کے ایک وفادار وزیر اعلی ہیں مگر ان کی طرف سے بعض دفعہ ایسے بیانات سامنے آ جاتے ہیں، جسے پسند نہیں کیا جاتا۔کیا یہ ضروری ہے کہ اپوزیشن سیاستداناپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے نامناسب رویہ اختیار کریں۔

ایک وزیر اعلیٰ کو یہ قطعی زیب نہیں دیتا کہ اسے روکنے والے پولیس اہلکار کو یہ کہے کہ ساڑھے چار کروڑ آبادی کے صوبے کے وزیر اعلیٰ کو روک کر تم ملک توڑنا چاہتے ہو۔ ملک توڑنے جیسے الفاظ استعمال کرنے والا اعلی عہدے کا حامل فرد ایک چھوٹے پولیس اہلکار پر الزام لگا رہا ہے کہ حکومت کی ہدایت پر مجھے اڈیالہ جانے سے روک کر وہ ملک دشمنی کر رہا ہے۔پولیس اہلکار تو اپنے فرائض ادا کر رہا ہوتا ہے، اس کا سیاست سے کیا تعلق،اسے جو حکم ملتا ہے وہ اسے ہر صورت بجا لاتا ہے۔

 مذکورہ پولیس اہلکار نے وزیر اعلیٰ کو روکنے کا کام اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اعلیٰ پولیس حکام کی ہدایت پر کیا جنھیں ایسا کرنے کی ہدایت وزارت داخلہ یا حکومت ہی کی طرف سے دی جاتی ہے اور حکومتی احکام ماننے کا ہر حکومتی ادارہ پابند ہے۔ وفاقی حکومت یا کسی وفاقی ادارے کی طرف سے کسی صوبے کے وزیر اعلیٰ کو بھی اگر کوئی آئینی و قانونی ہدایت دی جائے تو وہ وزیر اعلیٰ بھی پابند ہوتا ہے کہ ملک کے مفاد میں ہونے والے ہر سرکاری فیصلے پر عمل کرے۔ 2012ء میں منظور ہونے والی صوبوں کے اختیارات بڑھانے والی 18 ویں ترمیم میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ ملک کے کسی صوبے کا وزیر اعلیٰ ملک سے وفاداری کی بجائے اپنے سیاسی قائد کے عشق میں مبتلا ہو کر ملک توڑنے اور ٹوٹنے کی باتیں کرے۔

وزیر اعلیٰ کے پی کے رویے پر ہی گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کو کہنا پڑا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا سیاسی مسئلہ چھوڑ کر اپنے صوبے کی فکر کریں اور ہر ضروری مقام پر اپنے صوبے کا مقدمہ لڑیں جو ان کی آئینی ذمے داری ہے اور اپنے صوبے کے مفادات کو ترجیح دے کر اس کے لیے آواز بلند کریں تاکہ صوبے کا فائدہ ہو۔

 گورنر کے پی کا یہ کہنا درست ہے کہ بانی کی رہائی صوبائی نہیں سیاسی مسئلہ ہے اور حکومتی احکامات کے خلاف دھرنوں، احتجاج کی بجائے عدالتوں سے رجوع کیا جائے جو اس سلسلے میں بہترین فورم ہے۔ ملک اور صوبوں کے معاملات کے لیے پارلیمنٹ موجود ہے جہاں آواز اٹھانے کی بجائے پی ٹی آئی صرف شور شرابا کرتی ہے۔ ہر حکومت اور اس کے سربراہ آج ہی نہیں ہر دور میں اپنی مرضی کے فیصلے کرکے اپوزیشن کو احتجاج کا موقع خود دیتے آئے ہیں اور پی ٹی آئی کی اپنی وفاقی اور دو صوبوں کے حکمران بھی مرضی کے فیصلے کرتے آئے ہیں اور جے یو آئی نے حکمرانوں کی بری حکمرانی کے خلاف اسلام آباد تک طویل لانگ مارچ کرکے دھرنا بھی دیا تھا جو سب قانون کے مطابق تھا مگر مولانا فضل الرحمن اور اپوزیشن رہنماؤں نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم ملک توڑنا چاہتے ہو۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر آصف زرداری نے بھی ملک توڑنے کی نہیں ملک جوڑ کر رکھنے کی بات کرتے ہوئے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تھا جنرل پرویز مشرف کو نہیں کہا تھا کہ تم ملک توڑنا چاہتے ہو جو اس وقت ملک کے سربراہ تھے۔

  بانی پاکستان کی رحلت کے بعد ملک میں بہت ہی کم ایسے حکمران آئے جن پر بری حکمرانی کا الزام لگا ہو۔ ہر غیر سویلین اور سویلین حکمران نے اپنی اپنی حکومتوں میں ایسے ایسے مفاد پرستانہ اقدامات کیے جو اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں جن کے اقدامات کا ذمے دار یہ ملک نہیں، ان کی حکمرانی کے انداز تھے اور ان پر جب مکافات عمل کا دور آیا وہ برسر اقتدار حکمرانوں پر انتقامی سیاست کرنے کا الزام لگاتے، احتجاج کرتے، دھرنے اور لانگ مارچ کرتے رہے اور یہ بھول گئے کہ انھوں نے اپنے اقتدار میں اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کیا کچھ نہیں کیا تھا جو اب بلبلا رہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے دور کو کسی حد تک اچھی حکمرانی کا دور کہا جا سکتا ہے کہ جنھوں نے صدر کی مخالفت کے باوجود لاہور میں 1986 میں بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی میں رکاوٹ نہیں ڈالی تھی جب کہ جنرل پرویز نے تو لاہور میں نواز شریف کو لینڈ کرتے ہی واپس بھیج دیا تھا۔ بے نظیر اور نواز شریف کی حکومتوں میں ایک دوسرے کے خلاف بھرپور سیاسی انتقام لیے گئے تھے۔

2018 میں پہلی بار اقتدار میں آنے والے بانی پی ٹی آئی کی حکومت میں صرف (ن) لیگی اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف کونسا ظلم تھا جو نہیں ہوا۔ اس وقت کے حکمرانی کرنے والوں نے ہی ملک میں بدترین حکمرانی کا ریکارڈ قائم کیا تھا مگر زیر عتاب رہنے والوں نے کبھی کھلے عام پاکستان توڑنے کی باتیں نہیں کی تھیں۔ پی ٹی آئی کے انتہا پسند رہنما تو یہاں تک ہرزہ سرائی کر رہے ہیں کہ بانی نہیں تو پاکستان نہیں۔ ہمیں صرف اپنے بانی کی رہائی چاہیے ایسی باتوں کی کسی محب وطن رہنما سے توقع ہی نہیں کی جاسکتی ۔ مگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت انھیں نہیں روک رہی کہ بری حکمرانی ذاتی فعل ہے جس سے ملک کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ملک ان کی بری حکمرانی کا ذمے دار ہے۔ انھیں بری حکمرانی کی سزا صرف عوام ہی دیتے ہیں۔

Load Next Story