خراب نیند یا بے خوابی اور کینسر کے درمیان تعلق کا انکشاف!

یہ انکشاف امریکا میں منعقد ہوئی ایک کانفرنس میں سامنے کیا گیا

حال ہی میں کی جانے والی دو بڑی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ خراب یا بے قاعدہ نیند 50 برس سے کم عمر افراد میں کینسر ہونے کے خطرناک رجحان کی ایک اہم وجہ ہو سکتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں کم عمر افراد میں کینسر کی تشخیص کے کیسز میں تقریباً 80 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

1990 میں دنیا بھر میں ابتدائی عمر کے کینسر کے 18 لاکھ 20 ہزار کیسز ریکارڈ ہوئے تھے، جو 2019 تک بڑھ کر 32 لاکھ 60 ہزار ہو گئے۔ اسی دوران 40 سال یا اس سے کم عمر افراد میں کینسر سے ہونے والی اموات میں بھی 27 فی صد اضافہ دیکھا گیا۔

ماہرین ابھی تک اس تشویشناک اضافے کی اصل وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم امریکا کے شہر ہیوسٹن میں قائم دنیا کے معروف کینسر تحقیقی ادارے ایم ڈی اینڈرسن کینسر سینٹر کی نئی تحقیق نے نیند کی خرابی کو ایک ممکنہ سبب قرار دیا ہے۔

یہ نتائج دنیا کی سب سے بڑی کینسر کانفرنس امیریکن سوسائٹی آف کلینیکل اونکالوجی میں پیش کیے گئے۔

کانفرنس میں محققین نے امریکا کے 1 کروڑ 80 لاکھ سے زائد 18 سے 50 برس عمر کے افراد کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو لوگ بے خوابی، کم نیند یا غیر منظم سونے جاگنے کے معمولات رکھتے تھے، ان میں کم عمری میں کینسر ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ تھا۔

حیران کن طور پر بعض معاملات میں 50 سال سے کم عمر وہ افراد جنہیں بے خوابی کی تشخیص ہوئی تھی، ان میں اگلے پانچ سال کے اندر کینسر لاحق ہونے کا خطرہ عام لوگوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ پایا گیا۔

اگرچہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس تعلق پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اچھی اور باقاعدہ نیند صرف ذہنی سکون ہی نہیں بلکہ کینسر جیسے مہلک مرض سے بچاؤ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

Load Next Story