عالمی اور مقامی سطح پر روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں ریکارڈ مندی کا رحجان
عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران عالمی اور مقامی سطح پر روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں ریکارڈ مندی کا رحجان رہا۔
بھارت کی یکم جون سے 31 اکتوبر تک روئی کی درآمدات پر تمام ڈیوٹی و ٹیکسز ختم کرنے کے اعلان نے چین کے لیے بھارتی سوتی دھاگے کی برآمدات میں غیر معمولی اضافے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں جبکہ پاکستان مسلسل دوسرے ہفتے بھی امریکا سے روئی درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ پاکستان میں توقعات کے برعکس عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں ریکارڈ مندی واقع ہوئی ہے جسکا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ سندھ میں روئی کی فی من قیمت 2 ہزار روپے کی کمی سے 21 ہزار روپے جبکہ پنجاب میں ایک ہزار روپے فی من کی کمی سے 22 ہزار روپے کی سطح پر آگئی جبکہ فی 40 کلوگرام پھٹی کی قیمت 1500 روپے کی کمی سے 10ہزار 500روپے کی سطح پر آگئی۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ دنوں میں بھی مقامی کاٹن مارکیٹس میں مزید مندی کے خدشات ہیں۔ پنجاب حکومت نے سندھ سے روئی اور پھٹی پنجاب لانے پر ایک نیا ٹیکس عائد کردیا ہے جس کے باعث پنجاب میں روئی کی قیمت سندھ کی نسبت میں زیادہ ہوگئی ہے۔ روئی کی بین اقوامی منڈیوں میں گزشتہ چند روز کے دوران روئی کی فی پاونڈ قیمت میں 10سینٹ تک کی کمی واقع ہوئی ہے جس کے اثرات پاکستانی کاٹن مارکیٹس پر مندی کی صورت میں مرتب ہوئے ہیں۔
احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان میں روئی کے ذخائر ختم ہونے کے باعث مقامی ٹیکسٹائل ملیں اپنی برآمدی نوعیت کی ضروریات کے لیے امریکا اور برازیل سے بڑے پیمانے پر روئی کے خریداری معاہدے کر رہی ہیں اس طرح سے زیر تبصرہ ہفتے کے دوران بھی پاکستان امریکا سے روئی کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔ زیرتبصرہ ہفتے کے دوران امریکا کی روئی کی مجموعی طور پر روئی کی ایک لاکھ 12ہزار گانٹھیں فروخت کی گئیں جس میں سے پاکستان نے سب سے زیادہ 68 ہزار 30 روئی کی گانٹھوں کی خریداری کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارتی حکومت کی نئی پالیسی کی بدولت بھارت سے نومبر 2025 سے ہر ماہ چین کو کم از کم 30ہزار ٹن سوتی دھاگے کی برآمدات ہو رہی ہیں جبکہ ایک سال قبل یہ برآمدات صرف 600 ٹن ماہانہ تک محدود تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ بھارتی برآمدات میں غیر معمولی اضافے کے باعث بھارت میں معیاری روئی کی کمی واقع ہوگئی تھی جبکہ درآمدی روئی پر بھاری ڈیوٹیز اور ٹیکسز عائد ہونے سے بھارتی برآمدات کو سنگین خطرات لاحق ہونے پر بھارتی حکومت نے یکم جون سے 31اکتوبر تک درآمد ہونے والی روئی پر تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز جو کہ مجموعی طور 11 فیصد تھیں کے علاوہ ”ایگریکلچر انفراسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ سیس“ بھی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے بھارت کاٹن ایکسپورٹس میں غیر معمولی اضافے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم کے مطابق اس کے برعکس پاکستان میں پورے کاٹن چین پر عائد غیر معمولی ٹیکسوں عائد ہونے کے علاوہ زائد پاور گیس ٹیرف، شرح سود اور سپر ٹیکس سے ملک بھر میں 500 کے لگ بھگ کاٹن جننگ فیکٹریاں اور 150سے زائد ٹیکسٹائل ملیں مکمل طور پر فعال ہیں جبکہ جزوی طور پر متعدد جننگ و ٹیکسٹائل ملیں غیر فعال ہوچکی ہیں لیکن اس کے باوجود ان صنعتوں پر مزید ٹیکسز عائد کیے جانے کی بازگشت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپٹما اور پی سی جی اے کی جانب سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ نئے وفاقی و صوبائی بجٹ میں ان صنعتوں پر عائد ٹیکسز، توانائی اور مارک اپ کی شرحوں میں کمی کی جائے بصورت دیگر ان صنعتوں کے دیوالیہ ہونے کے خدشات ہیں۔
ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وفاقی بجٹ میں ایکسپورٹرز کو پہلے کی طرح برآمدی ویلیو پر عائد ٹیکس کی کٹوتی کو فائنل ٹیکس ریجیم تصور کرے تاکہ ملکی برآمدات میں بہتری رونما ہوسکے۔ احسان الحق نے بتایا کہ رحیم یار خان سے رکن پنجاب اسمبلی چوہدری اعجاز شفیع نے پنجاب اسمبلی میں ایک تحریک التواء پیش کرتے ہوئے سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں جیم خانہ کلب قائم نہ کرنے سے متعلق پنجاب حکومت کی توجہ مبزول کرائی ہے تاکہ اس تاریخی ادارے کو تباہی سے بچایا جاسکے۔