یوٹیوب کا اے آئی سے بنائے گئے مواد کی نشاندہی کیلئے اہم اقدام
یوٹیوب نے اعلان کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار یا تبدیل کیے گئے مواد کی نشاندہی کے حوالے سے مزید شفافیت اختیار کر رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے سے یوٹیوب پر اپ لوڈ ہونے والی تمام ایسی ویڈیوز جنہیں نمایاں طور پر اے آئی کے ذریعے تخلیق یا تبدیل کیا گیا ہو، ان پر واضح اے آئی لیبل دکھایا جائے گا۔
طویل ویڈیوز میں یہ لیبل ویڈیو پلیئر کے نیچے اور تفصیل کے اوپر نظر آئے گا، جبکہ شارٹس میں یہ براہِ راست ویڈیو پر بطور اوورلے ظاہر ہوگا۔
یوٹیوب اب بھی بنیادی طور پر کانٹینٹ کریئیٹرز سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ خود اپنی اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز کو ٹیگ کریں۔ تاہم، کمپنی نے اب ایک جدید مواد شناختی نظام (Content Detection System) بھی متعارف کر دیا ہے جو ویڈیوز کا تجزیہ کرکے اے آئی سے تیار شدہ مواد کی نشاندہی کرے گا، چاہے تخلیق کار نے اسے خود ٹیگ نہ کیا ہو۔
اگر کسی ویڈیو کو غلطی سے اے آئی جنریٹڈ قرار دے دیا جائے تو کریئیٹرز یوٹیوب اسٹوڈیو میں جا کر اس کی معلومات اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں۔
تاہم، اگر ویڈیو یوٹیوب کے اپنے اے آئی ٹولز (جیسے کہ Veo یا Dream Screen) کے ذریعے بنائی گئی ہو یا اس میںC2PA Metadata موجود ہو تو اے آئی لیبل برقرار رہے گا۔
یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس نئے ڈِسکلوژر لیبل کا ویڈیوز کی سفارشات یا مونیٹائزیشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس کا مقصد صرف ناظرین کو یہ واضح طور پر بتانا ہے کہ کون سا مواد اے آئی کی مدد سے تخلیق یا ترمیم کیا گیا ہے۔