حکومت 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے سبسڈی جاری رکھے گی، وزیر توانائی
اویس لغاری نے پریس کانفرنس کی—فوٹو: اے پی پی
وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے بجلی سبسڈی کے خاتمے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت ان صارفین کے لیے سبسڈی جاری رکھے گی اور رجسٹریشن اور کیو آر کوڈ نظام کے ذریعے سبسڈی کی شفاف اور مؤثر فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاور سیکٹر سے متعلق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران میڈیا اور سوشل میڈیا پر مختلف ایشوز زیر بحث رہے، جن کے حوالے سے حقائق عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہے تاکہ لوگ خود فیصلہ کر سکیں کہ پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات اور حکومتی اقدامات پر اعتماد کیا جانا چاہیے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بلوں پر دی جانے والی سبسڈی کی تفصیلات درج کی جا رہی ہیں اور صارفین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ بل ادا کرنے والے فرد کے شناختی کارڈ کو کیو آر کوڈ کے ذریعے میٹر کے ساتھ منسلک کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار سال میں 200 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 95 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 15 لاکھ ہو چکی ہے جبکہ ان صارفین کو سالانہ 527 ارب روپے کی رعایت دی جا رہی ہے، جس میں 249 ارب روپے حکومت پاکستان اور 278 ارب روپے دیگر بجلی صارفین برداشت کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کے نتیجے میں 3,500 ارب روپے کی مستقبل کی ادائیگیاں صارفین کے حق میں منتقل کی گئیں، بند پڑے بجلی گھروں کی غیر ضروری مشینری 47 ارب روپے میں نیلام کی گئی اور ان اداروں کےملازمین کو ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں منتقل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کےنقصانات میں ایک سال کے دوران 193 ارب روپے کی کمی لائی گئی اور گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی کمی کی گئی۔
اویس لغاری نے کہا کہ پاور ڈویژن ماضی میں سالانہ 1,287 ارب روپے بجٹ سپورٹ حاصل کرتا تھا جو موجودہ مالی سال میں 890 ارب روپے تک محدود رہی جبکہ آئندہ بجٹ میں اس کی ضرورت 830 ارب روپے رہ جائے گی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دو سال کے دوران پاور سیکٹر نے قومی خزانے پر بوجھ 457 ارب روپے کم کیا ہے، کراس سبسڈی میں کمی کے باعث صنعتی صارفین کے نرخ کم کیے گئے، مارچ 2024 میں گھریلو صارفین کے لیے اوسط نرخ 43 روپے 44 پیسے فی یونٹ تھے جو اب 36 روپے 35 پیسے رہ گئے ہیں جبکہ صنعتی نرخ 62 روپے 99 پیسے فی یونٹ سے کم ہو کر 42 روپے 40 پیسے فی یونٹ ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاور سیکٹر کی 2025 میں پیدا ہونے والی 55 فیصد بجلی کلین انرجی پر مشتمل تھی جبکہ 2035 تک اس تناسب کو 90 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ درآمدی ایندھن پر انحصار 2025 میں 2.4 ارب ڈالر تھا جو 2035 تک کم ہو کر 0.3 ارب ڈالر رہ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ سال 9 ہزار میگاواٹ کی مجوزہ اضافی بجلی خریداری منصوبے ختم کر دیے جس سے 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور مستقبل میں صارفین پر سالانہ 400 ارب روپے کا اضافی بوجھ رک گیا اور اس فیصلے سے بجلی کی قیمت میں ممکنہ طور پر 4 روپے فی یونٹ اضافے سے بھی بچاؤ ممکن ہوا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت صرف ان منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے جن پر پہلے سے سرمایہ کاری ہو چکی ہے جن میں دیامر بھاشا، داسو، مہمند ڈیم اور چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی ٹرانسمیشن لائن کی لاگت حکومت خود برداشت کرے گی تاکہ اس کا بوجھ صارفین پر منتقل نہ ہو، حکومت نے بجلی خریداری کے روایتی نظام سے نکلنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مسابقتی مارکیٹوں کے قیام کو قانونی شکل دے دی ہے اور مستقبل میں حکومت بجلی خریداری کے کاروبار سے باہر رہے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت سولرائزیشن کے خلاف نہیں بلکہ اس کے فروغ کی حامی ہے، نیٹ میٹرنگ اور سولرائزیشن کی پالیسی مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے متعارف کرائی ہے اور آج بھی ملک میں سولر توانائی تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 50 ہزار میگاواٹ سولر صلاحیت صارفین اپنی سرمایہ کاری سے نصب کر چکے ہیں، نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کے باوجود درخواستوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہوا ہے، صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے 118 ہیلپ لائن متعارف کرائی گئی ہے اور تمام شکایات کا باقاعدہ ریکارڈ اور مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال 23 لاکھ شکایات موصول ہوئی تھیں جبکہ رواں سال یہ تعداد 61 لاکھ تک پہنچ گئی جن میں سے 46 لاکھ مقررہ وقت کے اندر حل کی گئیں جبکہ 14 لاکھ 90 ہزار شکایات مقررہ مدت میں حل نہ ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایک ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے مقامی افراد سے 80 ہزار روپے وصول کرنے کے واقعے پر سخت کارروائی کی گئی ہے، حکومت احتساب پر یقین رکھتی ہے اور عوامی نمائندوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت صرف ان منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے جن پر پہلے سے سرمایہ کاری ہو چکی ہے، جن میں دیامر بھاشا، داسو اور مہمند ڈیم سمیت مختلف آبی منصوبے اور چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ شامل ہیں، ان منصوبوں کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 5,255 میگاواٹ ہے اور ان سے حاصل ہونے والی بجلی صارفین کے لیے اضافی مالی بوجھ کا باعث نہیں بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم ملک کی آبی سلامتی کے لیے نہایت اہم منصوبہ ہے اور35-2034 میں اس سے بجلی کی پیداوار شروع ہونے پر بھی صارفین کے ٹیرف میں اضافہ نہیں ہوگا، ٹرانسمیشن لائن کی لاگت حکومت خود برداشت کرے گی اور اسے صارفین پر منتقل نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بجلی خریداری کے روایتی نظام سے نکلنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مسابقتی مارکیٹوں کے قیام کو قانونی شکل دے دی ہے اور مستقبل میں حکومت بجلی کی خریداری کے کاروبار سے باہر رہے گی۔
اویس لغاری نے کہا کہ گلگت بلتستان اور گوادر میں سولرائزیشن منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے، 25 کلو واٹ اور اس سے کم کے سولر منصوبوں کے لیے لائسسنگ شرط حتم کر دی گئی ہے، پاکستان کا قابل تجدید توانائی کا شیئر 57 فیصد تک ہے جبکہ بھارت کا قابل تجدید توانائی کا شیئر 48 فیصد تک ہے۔