امریکا نے چینی کمپنیوں پر اے آئی چپس کی برآمدی پابندیاں مزید سخت کر دیں
واشنگٹن: امریکا نے جدید اے آئی چپس کی برآمد سے متعلق پابندیوں کو مزید واضح کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یہ پابندیاں صرف چین کے اندر موجود کمپنیوں پر ہی نہیں بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں قائم چینی کمپنیوں اور ان کی ذیلی شاخوں پر بھی لاگو ہوں گی۔
امریکی محکمہ تجارت نے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید اے آئی چپس کی برآمد کے لیے لائسنس کی شرط ان تمام کاروباری اداروں پر لاگو ہوگی جن کا مرکزی دفتر یا بنیادی ملکیت چین میں ہے۔
محکمہ تجارت کے ذیلی ادارے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی کے مطابق یہ وضاحت ان سوالات کے بعد جاری کی گئی ہے جن میں پوچھا جا رہا تھا کہ آیا امریکا سابقہ برآمدی پابندیوں پر اب بھی عمل درآمد کر رہا ہے یا نہیں۔ ادارے نے واضح کیا کہ پابندیاں بدستور نافذ ہیں۔
یاد رہے کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک عالمی لائسنسنگ فریم ورک تجویز کیا گیا تھا، جس کا مقصد جدید اے آئی چپس تک رسائی کو محدود کرنا تھا۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے گزشتہ سال اس منصوبے کو ختم کر دیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ نظام غیر ضروری ضوابط اور سفارتی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
دوسری جانب دنیا کی معروف چپ ساز کمپنی نیویڈیا نے کہا ہے کہ وہ پہلے ہی ان قواعد کے مطابق کام کر رہی ہے اور چینی کمپنیوں کو جدید چپس کی فراہمی کے لیے ضروری لائسنس حاصل کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی وضاحت کا مقصد ان ممکنہ خامیوں کو بند کرنا ہے جن کے ذریعے چینی کمپنیاں بیرونِ ملک موجود اپنی شاخوں کے ذریعے امریکی ساختہ جدید چپس حاصل کر سکتی تھیں۔امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ تیزی سے جاری ہے، اور واشنگٹن مسلسل ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جن کا مقصد چین کی جدید اے آئی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔