سیٹلائٹ تصاویر نے غزہ کی تباہی کی نئی داستان سنا دی، پورے پورے علاقے نقشے سے مٹ گئے

تصاویر میں رفح کے مختلف محلوں، رہائشی منصوبوں اور سرحدی تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہوا دکھایا گیا ہے

غزہ: نئی سیٹلائٹ تصاویر میں جنوبی غزہ کے وسیع علاقوں میں ہونے والی تباہی نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جہاں متعدد رہائشی علاقے، زرعی زمینیں، تعلیمی ادارے اور قبرستان شدید نقصان کا شکار نظر آتے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں اپ ڈیٹ ہونے والی فضائی اور سیٹلائٹ تصاویر میں جنوبی غزہ کے شہروں رفح اور خان یونس کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کئی رہائشی بستیاں اور اہم عوامی مقامات اب نقشے پر اپنی سابقہ شکل میں موجود نہیں رہے۔

رپورٹ کے مطابق خان یونس کے علاقے معن میں واقع شیخ محمد قبرستان بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جنگی کارروائیوں کے بعد اس علاقے کی جغرافیائی صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر میں رفح کے مختلف محلوں، رہائشی منصوبوں اور سرحدی تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہوا دکھایا گیا ہے۔ بعض علاقوں میں صرف ملبے کے ڈھیر اور تباہ شدہ عمارتوں کے آثار باقی رہ گئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غزہ کے تعلیمی شعبے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ متعدد اسکولوں اور جامعات کی عمارتیں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ ہزاروں طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں طویل عرصے سے معطل ہیں۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بعض تنظیموں کے اعداد و شمار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ غزہ کی زرعی زمینوں کا بڑا حصہ بھی تباہ یا ناقابلِ استعمال ہو چکا ہے، جس کے باعث خوراک کی فراہمی اور انسانی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد عارضی کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ساحلی علاقوں میں قائم خیمہ بستیوں میں آبادی کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ فوجی کارروائیوں کا مقصد مسلح گروہوں کے خلاف آپریشنز اور سیکیورٹی اہداف کا حصول ہے۔ تاہم فلسطینی حکام اور متعدد بین الاقوامی ادارے غزہ میں انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر نے غزہ میں جاری تنازع کے اثرات کو ایک نئی جہت سے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، جبکہ خطے میں مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

Load Next Story