قومی اقتصادی کونسل کی جانب سے 1126 ارب کا ترقیاتی بجٹ منظور ہونے کا امکان

بجٹ میں معاشی شرح نمو (جی ڈی پی) اور صنعتوں کی ترقی کا ہدف چار چار فیصد اور زراعت کا ہدف 3.8 فیصد مقرر ہونے کا امکان

اسلام آباد:

قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کی جانب سے بدھ کو آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ایک ہزار 126 ارب روپے کے لگ بھگ وفاقی ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی) کی منظوری کا امکان ہے جبکہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے معاشی شرح نمو(جی ڈی پی) اور صنعتوں کی ترقی کا ہدف چار چار فیصد اور زراعت کے شعبے کا ہدف 3.8 فیصد مقرر کئے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بدھ کو وزیراعظم میاں شہبازشریف کی زیر صدارت منعقد ہوگا اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی سمیت آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے نمائندوں سمیت دیگر متعلقہ حکام شریک ہوں گے۔

وزارت منصوبہ بندی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27ء کا وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے اور مجوزہ رقم رواں سال کے نظرثانی شدہ ترقیاتی بجٹ 837 ارب سے 289 ارب روپے زیادہ ہے۔

حکام کے مطابق نئے بجٹ میں سب سے زیادہ 730 ارب روپے انفرا اسٹرکچر پراجیکٹس، 408 ارب سے زائد ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔ سماجی منصوبوں کے لیے 40 ارب اضافے کے ساتھ 187 ارب روپے مختص ہوں گے۔ پانی کے منصوبوں پر 140 ارب اور توانائی پر 135 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے

علاوہ ازیں آئندہ مالی سال میں ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے بجٹ بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اور پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کا بجٹ 63 ارب سے بڑھا کر 70 ارب کرنے کی تجویز ہے۔

گورننس پر 10 ارب اور سائنس و آئی ٹی پر 44 ارب روپے خرچ ہوں گے، فزیکل پلاننگ اور ہاوٴسنگ سیکٹر کے لیے 45 ارب روپے مختص کرنے کا پلان ہے۔ ایچ ای سی سمیت تعلیم کے لیے 78.5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، صحت کے منصوبوں پر 24.3 ارب روپے خرچ کرنے کیے جائیں گے۔

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت خصوصی علاقوں کیلئے 80 ارب مختص ہوں گے، ضم شدہ اضلاع کیلئے 66 ارب روپے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے آئندہ مالی سال کیلئے معاشی شرح نمو اور صنعتوں کی ترقی کا ہدف 4،4 فیصد اور زراعت کے شعبے کا ہدف 3.8 فیصد مقر کئے جانے کا امکان ہے اور خدمات کے شعبے کیلیے 4.2 فیصد کا ہدف ہے۔

واضح رہے کہ رواں مالی سال میں معاشی ترقی کی رفتار 4.2 فیصد ہدف کے مقابلے میں 3.7 فیصد تک محدود رہنے کا تخمینہ ہے۔

سالانہ پلان رابطہ کمیٹی نے 1126 ارب مختص کرنے کی منظوری دے دی

سالانہ پلان رابطہ کمیٹی نے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 1126 ارب روپے مختص کرنے کی اصولی منظوری دے دی۔

حتمی منظوری کے لیے بدھ کو وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور این ای سی کے اجلاس میں پی ایس ڈی پی کے ساتھ ساتھ سالانہ منصوبے کی بھی منظوری دی جائے گی اور این ای سی کے اجلاس میں پی ایس ڈی پی مجوزہ حجم میں کچھ ردوبدل کا امکان ہے۔

اس حوالے سے سالانہ پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی (اے پی سی سی) کا اجلاس وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں 1126 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا ہے جس میں توانائی کے منصوبوں کے لیے 135 ارب، واٹر ریسورسز کے لیے 140 ارب مختص کرنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

علاوہ ازیں ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونی کیشن کے لیے 408 ارب روپے  اور سوشل سیکٹر میں 187 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

مالی سال 27-2026ء کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کرنے کی سفارش بھی زیر بحث آئی ہے اہم فصلوں کی پیداوار کا ہدف 3.6 فیصد اور مینوفیکچرنگ کا ہدف 5.8 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ صنعتوں کی ترقی کا ہدف 4 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رواں مالی سال کیلئے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل نہ ہو سکا، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کا ہدف 4.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

اے پی سی سی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے صحافیوں کو بتایا کہ ملک بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے تقریباً 10 ہزار ارب روپے درکار ہیں جبکہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے وسائل میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 8 برس کے دوران ترقیاتی بجٹ جمود کا شکار رہا، جس کے باعث متعدد منصوبے متاثر ہوئے، 2013ء سے 2018ء کے دوران پاکستان میں ترقیاتی بجٹ میں مسلسل اضافہ ہوا اور ملک بھر میں انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے بڑے منصوبے شروع کیے گئے، 2018ء میں ترقیاتی بجٹ کے مقررہ ہدف سے بھی زیادہ اخراجات کیے گئے تھے  تاہم اس کے بعد ترقیاتی شعبے میں زوال کا آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 2.6 فیصد سے کم ہو کر صرف 0.6 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 2018 کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص وسائل میں مسلسل کمی دیکھی گئی۔

احسن اقبال نے کہا کہ اس وقت 5 ہزار ارب روپے مالیت کے منصوبوں کے پی سی ون پر کام جاری ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 720 ارب روپے کے نئے منصوبوں کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے صوبے نسبتاً زیادہ وسائل کے حامل ہوگئے ہیں جبکہ وفاق کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، وفاقی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے جس سے ترقیاتی منصوبوں کیلئے دستیاب وسائل محدود ہو جاتے ہیں۔

Load Next Story