ملائیشیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی

نئے قوانین کا اطلاق فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہوگا

کوالالمپور: ملائیشیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نئی رجسٹریشن پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام بچوں کو نقصان دہ آن لائن مواد اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

ملائیشین کمیونیکیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن کے مطابق نئے ضوابط کا اطلاق پیر سے شروع ہو گیا ہے، جس کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نئے صارفین کی عمر کی تصدیق سرکاری ریکارڈ کے ذریعے کرنا ہوگی۔

نئے قوانین کا اطلاق فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہوگا۔ اگر کوئی کمپنی ان ضوابط پر عمل درآمد میں ناکام رہی تو اس پر ایک کروڑ رنگٹ (تقریباً 25 لاکھ امریکی ڈالر) تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

ملائیشین حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بچوں کو انٹرنیٹ یا جدید ٹیکنالوجی سے دور کرنا نہیں بلکہ سوشل میڈیا کمپنیوں، والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داریوں کو مزید مؤثر بنانا ہے تاکہ کم عمر صارفین کو محفوظ آن لائن ماحول فراہم کیا جا سکے۔

کمیشن کے مطابق موجودہ صارفین کی عمر کی تصدیق کا عمل بھی شروع کیا جائے گا، جسے مکمل کرنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو چھ ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں نقصان دہ آن لائن مواد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیوں کی نگرانی سخت کر دی ہے۔

حکومت خاص طور پر ایسے مواد کے خلاف اقدامات کر رہی ہے جو نسلی یا مذہبی کشیدگی کو ہوا دے یا ملکی اداروں اور بادشاہت کے خلاف اشتعال انگیزی کا باعث بنے۔

ملائیشیا ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو بچوں کی آن لائن حفاظت اور سوشل میڈیا کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے سخت قوانین متعارف کرا رہے ہیں۔

Load Next Story