فرانسیسی بحریہ نے روسی آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا
فرانسیسی بحریہ نے بحر اوقیانوس میں ایک روسی آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایکس پر لکھا کہ روسی جہاز جس کا نام ٹیگور ہے، بین الاقوامی پابندیوں کیخلاف ورزی کررہا تھا جس بنا پر یہ آپریشن کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن برطانیہ سمیت کئی شراکت داروں کی حمایت سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بحری جہازوں کے لیے یہ ناقابل قبول ہے کہ وہ بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کریں اور اس جنگ کی مالی معاونت کریں جو روس نے یوکرین کے خلاف چھیڑی ہوئی ہے۔
La Marine nationale a arraisonné hier matin un nouveau pétrolier sous sanctions internationales en provenance de Russie : le Tagor. Notre détermination est constante et totale.
— Emmanuel Macron (@EmmanuelMacron) June 1, 2026
Cette intervention a été effectuée en Atlantique, en haute mer,… pic.twitter.com/zxEslYjbUE
بحر اوقیانوس کے میری ٹائم پریفیکچر نے ایک الگ بیان میں کہا کہ فرانسیسی بحریہ نے روس سے آنے والے آئل ٹینکر کو برٹنی سے 740 کلومیٹر مغرب میں روکا۔
واضح رہے کہ فرانس اور برطانیہ دونوں نے روس کے منظور شدہ "شیڈو فلیٹ" سے منسلک بحری جہازوں کو روکنے کا عزم کیا ہوا ہے جو ان کے پانیوں سے گزرتے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے مارچ میں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے برطانوی فوج کو "شیڈو فلیٹ" سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو روکنے کی اجازت دے دی ہے۔