کوئٹہ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کیوں ہوئی؟ وجہ سامنے آگئی
کوئٹہ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت بدستور برقرار ہے، شہر کے اکثر پٹرول پمپس بند ہونے سے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ کھلے پمپس پر صارفین کا رش بڑھ گیا اور لمبی لمبی قطار لگ گئیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایرانی پیٹرول پر پابندی ہے اور ملکی پیٹرول کی عدم دستیابی نے پریشان کر دیا ہے، گھنٹوں لائن میں کھڑے رہنے کے بعد بھی پیٹرول نہیں مل رہا۔
صدر پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قلت کی وجہ عید کی تعطیلات کے باعث ملکی پیٹرولیم کمپنیوں کا اسٹاک پہنچنے میں تاخیر ہے۔
انہوں ںے بتایا کہ شکارپور میں ڈپوؤں سے پیٹرول اور ڈیزل کی وافر مقدار میں لوڈنگ ہوگئی ہے، پیٹرول کی دستیابی کی صورتحال کو معمول پر آنے میں دو دن لگ سکتے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کرکے تمام پیٹرول پمپس کی مانیٹرنگ شروع کر دی۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں 60 رجسٹرڈ پیٹرول پمپس ہیں، پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا نوٹس لے کر پمپس مالکان سے رابطہ کیا اور پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی سپلائی بڑھا دی گئی۔
مہراللہ بادینی نے کہا کہ گزشتہ روز کوئٹہ میں 4لاکھ لیٹر پیٹرول پیٹرول پمپس پر سپلائی کیا گیا اور آج کوئٹہ کے پیٹرول پمپس پر 6لاکھ لیٹر پیٹرول سپلائی کیا جائے گا، ایسا نہیں کہ آج پیٹرول مل رہا اور کل نہیں ملے گا۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ایرانی پیٹرول کی سپلائی بند ہونے سے پیٹرول پمپس پر رش بڑھ گیا، ایرانی پیٹرول کو لیگل نہیں کیا گیا اور بحران کے دوران مافیا سرگرم ہو جاتے ہیں، ضلعی انتظامیہ نے پیٹرول پمپس پر کم گیج کا بھی نوٹس لیا ہے۔