دنیا کے سب سے بڑے بچھوں کی 41 کروڑ برس قدیم باقیات
برطانیہ میں دریافت ہونے والے فوسل کے ٹکڑوں کو دنیا کی اب تک کی سب سے بڑے بچھوؤں کی باقیات قرار دے دیا گیا ہے۔ ایک میٹر سے زائد لمبائی رکھنے والا پرائرکٹورُس گِیگاس زمین پر گھومنے والے اولین عظیم شکاریوں میں شمار ہوتا تھا۔
کروڑوں سال پہلے آج کے برطانیہ کے علاقوں خصوصاً انگلینڈ اور ویلز میں دنیا کا سب سے بڑا بچھو پایا جاتا تھا۔ اگرچہ پرائرکٹورُس گِیگاس کے فوسلز ایک صدی سے زیادہ عرصے سے سائنس دانوں کے علم میں تھے، لیکن اس کی اصل شناخت طویل عرصے تک تنازع اور بحث کا موضوع بنی رہی۔
اب مختلف فوسلز پر کی گئی نئی تحقیق نے تصدیق کر دی ہے کہ یہ مخلوق واقعی تاریخِ ارض کے سب سے بڑے بچھوؤں میں سے ایک تھی۔
اس کے پنجوں کی لمبائی تقریباً 16 سینٹی میٹر تھی جبکہ ایک اندازے کے مطابق اس کے جسم کی مجموعی لمبائی ایک میٹر سے بھی زیادہ تھی۔ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے یہ دیوہیکل بچھو سیلابی میدانوں پر راج کرتا تھا۔
اس زمانے میں (جسے ابتدائی ڈیونیئن دور کہا جاتا ہے) خشکی پر زندگی ابھی ابتدائی مراحل میں تھی، اس لیے بہت کم جانور ایسے تھے جو اس کے مقابلے کا حجم رکھتے۔
نتیجتاً یہ دیو قامت بچھو خشکی پر موجود چھوٹے آرتھروپوڈز جانوروں کا بے رحم شکاری تھا اور اسے شکار کی کوئی کمی نہیں ہوتی تھی۔
تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ پرائرکٹورُس گِیگاس صرف خشکی ہی نہیں بلکہ پانی میں بھی ایک خوفناک شکاری تھا، جہاں وہ مچھلیوں اور دیگر بڑے جانوروں کا شکار کر کے اپنی غذا حاصل کرتا تھا۔