چین نے بھارتی سرحد کے قریب روبوٹ فوجی تعینات کرنا شروع کردیے؟ ویڈیو وائرل
سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جس میں چین کی جانب سے بھارتی سرحد کے قریب فوجیوں کی جگہ روبوٹس کی تعیناتی دکھائی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس اور دفاعی تجزیوں کے مطابق چین نے بھارت کے ساتھ متنازع سرحدی علاقوں، خصوصاً تبت اور سنکیانگ کے بعض حصوں میں روبوٹک اور بغیر پائلٹ نظاموں کا استعمال بڑھایا ہے۔
ان میں روبوٹک "مَیول" (سامان بردار روبوٹس)، نگرانی کے خودکار نظام اور بعض مسلح زمینی روبوٹس شامل ہیں۔
جنود صينيون على الحدود مع الهند استبدلوا بروبوتات
— عائشة السيد - Aisha AlSayed (@aishaalsayed9) June 3, 2026
تفاجأ جنود هنود باختفاء الجنود الصينيين وظهور روبوتات مكانهم. الصين استبدلت البشر بآليات بسبب البرد القارس ونقص الأكسجين في جبال الهيمالايا، للحفاظ على جنودها. pic.twitter.com/GnxlF0lgka
کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انتہائی دشوار گزار اور بلند پہاڑی علاقوں میں بعض روایتی فوجی ذمہ داریاں روبوٹس اور خودکار نظاموں کو سونپی جا رہی ہیں، تاہم اس بات کی کوئی معتبر تصدیق نہیں ملی کہ چین نے بڑے پیمانے پر انسانی فوجیوں کو مکمل طور پر روبوٹس سے تبدیل کر دیا ہے۔
چین کی فوج گزشتہ چند برسوں سے فوجی روبوٹس، روبوٹک "وولف" پلیٹ فارمز، نگرانی کے سینسرز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کی آزمائش اور تعیناتی کر رہی ہے۔ یہ اقدامات سرحدی نگرانی، لاجسٹکس اور خطرناک علاقوں میں گشت کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
تاہم ان حوالے سے اب تک چینی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ تفصیلی بیان سامنے آیا ہے۔