تخریب کار طوطے نے شہریوں کا لاکھوں روپے کا نقصان کردیا
اسکاٹ لینڈ کے مضافاتی علاقے میں ایک انوکھے واقعے نے مقامی رہائشیوں کو حیران اور پریشان کر دیا ہے، جہاں ایک آزادانہ گھومنے والے طوطے پر گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق اس طوطے کی سرگرمیوں کے باعث اب تک ہزاروں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ طوطا فروری سے اسکاٹ لینڈ کے شہر انورنس کے مضافاتی علاقے لوچارڈل میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں وہ کھلی فضا میں آزادانہ گھومتا پھرتا ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ پرندہ خاص طور پر گاڑیوں کے شیشوں کی سیلنگ ربڑ اور وائپرز کو اپنی چونچ سے نقصان پہنچا رہا ہے، جس کے باعث گاڑیوں کے مالکان کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔
مقامی رہائشی کیتھلین میک کینن نے بی بی سی ریڈیو اسکاٹ لینڈ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب ان کے علاقے میں ’’طوطا‘‘ ایک منفی لفظ بن چکا ہے، کیونکہ یہ چھوٹا سا پرندہ گاڑیوں کے لیے بڑی مشکل بن گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود اس طوطے کو براہِ راست نہیں دیکھا، تاہم اس کے چھوڑے گئے اثرات اور نقصان واضح طور پر نظر آتے ہیں۔
نقصان سے بچنے کے لیے بعض رہائشیوں نے اپنی گاڑیوں کو ترپال سے ڈھانپنا بھی شروع کر دیا ہے تاکہ ربڑ کے حصے محفوظ رہ سکیں۔ ایک مقامی خاتون کرسٹینا رابرٹسن نے بتایا کہ انہوں نے اس انوکھے پرندے کی جھلک کبھی کبھار دیکھی ہے، تاہم یہ اکثر کچھ دنوں کے لیے غائب ہوجاتا ہے اور پھر اچانک دوبارہ ظاہر ہوجاتا ہے، جس سے علاقے میں ایک مستقل غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
وائلڈ لائف تنظیم ’’نیچر اسکاٹ‘‘ کے نمائندوں کے مطابق ماہرین ابھی تک اس بات کا حتمی جواب تلاش نہیں کرسکے کہ کچھ پرندے گاڑیوں کے ربڑ کے حصوں کو کیوں نشانہ بناتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے مختلف نظریات زیرِ غور ہیں۔ ان میں ایک نظریہ یہ ہے کہ پرندے گاڑی کے شیشے میں اپنا عکس دیکھ کر اسے حریف سمجھتے ہیں، دوسرا یہ کہ ربڑ میں موجود مخصوص چکنائی یا معدنیات ان کی توجہ کا باعث بنتی ہیں، جبکہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ رویہ محض بوریت اور تفریح کے باعث سامنے آتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق لوچارڈل میں دیکھا جانے والا یہ طوطا غالباً کوئی پالتو پرندہ ہے جو یا تو اپنے پنجرے سے فرار ہو گیا ہے یا پھر کسی نے اسے آزاد چھوڑ دیا ہے، جس کے بعد وہ اب مقامی آبادی کے لیے ایک منفرد مسئلہ بن چکا ہے۔